سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 71 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 71

71 سبیل الرشاد جلد چهارم کے نمونے نہیں رہے، نعوذ باللہ تمام عہدیدار بھی اور اکثریت جماعت کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے دور ہٹ گئی ہے۔یہ سب ان کے دلوں کی خواہش ہوتی ہے۔ایک صاحب نے مجھے لکھا اور ایسا بھیا نک نقشہ کھینچا کہ گویا اب جماعت نام کی رہ گئی ہے عمل ختم ہو گئے ہیں، کوئی چیز باقی نہیں رہی ، اخلاص ختم ہو گیا ہے۔اور پھر لکھتے ہیں اور آپ ہی اس کا جواب بھی دے دیا کہ مجھے پتہ ہے آپ یہی جواب دیں گے جو حضرت علی نے دیا تھا کہ پہلے خلفاء کے ماننے والے میرے جیسے لوگ تھے اور مجھے ماننے والے تم جیسے لوگ ہو۔لیکن سن لیں میرا جواب یہ نہیں ہے۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت احمدیہ نے ہمیشہ قائم رہنا ہے اور وفا قائم کرنے والے اس میں ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے۔میرا جواب یہ ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں لاکھوں، کروڑوں ایسے ہیں جو حضرت علی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اخلاص و وفا کے نمونے قائم کرنا جانتے ہیں۔نظام جماعت اور نظام خلافت کے لئے قربانیاں کرنا جانتے ہیں۔یہ خوف دلانا ہے تو کسی دنیا دار کو دلاؤ۔میں تو روزانہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تائید و نصرت کے نظارے دیکھتا ہوں۔لوگوں کے اخلاص و وفا کے نظارے دیکھتا ہوں۔مجھے تو یہ باتیں ڈرانے والی نہیں۔اور انشاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو وعدے کئے ہیں وہ انہیں پورا ہوتا ہمیں دکھا بھی رہا ہے اور ہمیشہ دکھاتا بھی رہے گا اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہماری نسلوں کو بھی دکھاتا رہے۔حضرت مسیح موعود کی بتائی ہوئی اسلامی تعلیم پر عاجزی اور وفا کے ساتھ چلتے رہیں جماعت کو میں یہ کہتا ہوں کہ دعاؤں کے ساتھ ہر سطح پر اخلاص و وفا کے نمونے دکھاتے ہوئے اس اسلامی تعلیم پر عمل کرتے چلے جائیں جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتائی ہے۔عاجزی اور وفا دکھاتے ہوئے اگر آپ چلتے رہیں گے تو کوئی خطرہ نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق جماعت سے چھٹے رہیں تو کوئی خطرہ نہیں ہے۔اُن لوگوں کو خطرہ ہے جو ٹھوکر کھا کر شیطان کے بہکاوے میں آ کر جماعت کو چھوڑ دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کو یا جماعت کے ساتھ چمٹے رہنے والوں کو کوئی خطرہ نہیں۔اُن کی دنیا و آخرت دونوں سنوری ہوئی ہیں اور انشاء اللہ سنوری رہیں گی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ اپنی جماعت سے کیا امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کے مطابق سب کو چلنے کی توفیق دے۔فرمایا کہ " میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہوگا کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی نا پا کی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو۔اور نیک دل، اور پاک طبع اور پاک خیال ہو کر زمین پر چلو اور یا درکھو کہ ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں۔اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور درگزر کی عادت ڈالو اور صبر اور حلم سے کام لو اور کسی پر ناجائز طریق سے حملہ نہ کرو اور جذبات نفس کو دبائے رکھو"۔