سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 68
سبیل الرشاد جلد چہارم 68 بھائی کے جذبات کا خیال رکھنا بھی نیکی ہے۔تو نیکیوں کا پلڑا تو جتنا بھی بھاری کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔اس لئے عہدیداران کو ، امراء کو خاص طور پر توجہ دینی چاہئے۔افراد جماعت (انصار ) کا نظام جماعت میں کردار اب میں افراد جماعت کو بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ ان کا نظام جماعت میں کیا کردار ہونا چاہئے۔پہلی بات یا درکھیں کہ جتنے زیادہ افراد جماعت کے معیار اعلیٰ ہوں گے اتنے زیادہ عہد یداران کے معیار بھی اعلیٰ ہوں گے۔پس ہر کوئی اپنے آپ کو دیکھے اور ان معیاروں کو اونچا کرنے کی کوشش کرے اور اپنے فرائض یعنی ایک فرد جماعت کے عہدیدار کے لئے کہ اطاعت کرنی ہے اس کے بھی اعلیٰ نمونے دکھا ئیں۔یہ نمونے جب آپ دکھا رہے ہوں گے تو اپنی نسلوں کو بھی بچارہے ہوں گے۔انہی نمونوں کو دیکھتے ہوئے آپ کی انگلی نسل نے بھی چلنا ہے اور انہیں نمونوں پر جو نسلیں قائم ہوں گی وہ آئندہ جب عہد یدار بنیں گی تو وہ وہی نمونے دکھا رہی ہوں گی جو اعلیٰ اخلاق کے نمونے ہوتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔جس نے حاکم وقت کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی ، اور جو حاکم وقت کا نافرمان ہے وہ میرا نا فرمان ہے۔( صحیح مسلم کتاب الامارۃ۔باب وجوب طاعة الامراء فی غیر معصیة وتحريمها فی المعصية ) امیر کی اور نظام جماعت کی اطاعت کے بارے میں یہ حکم ہے۔لوگ تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم خلیفہ کی اطاعت سے باہر نہیں ہیں، مکمل طور پر اطاعت میں ہیں، ہر حکم ماننے کو تیار ہیں۔لیکن فلاں عہد یدار یا فلاں امیر میں فلاں فلاں نقص ہے اس کی اطاعت ہم نہیں کر سکتے۔تو خلیفہ وقت کی اطاعت اسی صورت میں ہے جب نظام کے ہر عہدیدار کی اطاعت ہے۔اور تب ہی اللہ کے رسول کی اور اللہ کی اطاعت ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تنگدستی اور خوشحالی، خوشی اور نا خوشی حق تلفی اور ترجیحی سلوک غرض ہر حالت میں تیرے لئے حاکم وقت کے حکم کو سننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے۔( صحیح مسلم کتاب الامارۃ) فرمایا کہ جو حالات بھی ہوں تمہاری حق تلفی بھی ہو رہی ہو، تمہارے سے زیادتی بھی ہو رہی ہو تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہ بھی ہو اور دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک ہورہا ہو، تب بھی تم نے کہنا ماننا ہے۔سامنے لڑائی جھگڑے کے لئے کھڑے نہیں ہو جانا۔کسی بات سے انکار نہیں کر دینا۔بلکہ تمہارا کام یہ ہے کہ اطاعت کرو۔یہ بہر حال نظام جماعت میں بھی حق ہے کہ اگر کوئی غلط بات دیکھیں تو خلیفہ وقت کو اطلاع کر دیں اور پھر خاموش ہو جا ئیں، پیچھے نہیں پڑ جانا کہ کیا ہوا، کیا نہیں ہوا۔اطلاع کر دی، بس ٹھیک ہے۔حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت کے