سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 84

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 64 پھر آپ فرماتے ہیں: ” قرآن شریف پر تدبر کرو اس میں سب کچھ ہے۔ نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہے اور آئندہ زمانے کی خبریں ہیں وغیرہ۔ بخوبی سمجھ لو کہ یہ وہ مذہب پیش کرتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے برکات اور ثمرات تازہ بہ تازہ ملتے ہیں۔ انجیل میں مذہب کو کامل طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ اس کی تعلیم اس زمانہ کے حسب حال ہو تو ہو، لیکن وہ ہمیشہ اور ہر حالت کے موافق ہر گز نہیں۔ یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر مرض کا علاج بتایا ہے اور تمام قویٰ کی تربیت فرمائی ہے اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دور کرنے کا طریق بھی بتایا ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو اور اپنے چال چلن کو اس کی تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 102 ، الحکم 17 جنوری 1907) دو و ماتے ہیں: ” قرآن شریف کو پڑھو اور خدا سے کبھی نا امید نہ ہو۔ مومن خداسے پھر آپ فرماتے ہیں: کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ یہ کافروں کی عادت میں داخل ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ ہمارا خدا على كُلِّ شَيْ قَدِيرٌ خدا ہے ۔ قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھو اور نمازوں کو سنوار سنوار کر پڑھو اور اس کا مطلب بھی سمجھو۔ اپنی زبان میں بھی دعائیں کر لو۔ قرآن شریف کو ایک معمولی کتاب سمجھ کر نہ پڑھو بلکہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھ کر پڑھو۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ )1902 191۔ الحکم 17 جون اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم قرآن کریم کے مقام کو پہچانیں اور اپنی زندگیاں بھی سنوارنے والے ہوں اور اپنی نسلوں کی زندگیاں بھی سنوارنے والے ہوں۔ اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ہمیں نصائح فرمائی ہیں ان پر عمل کرنے والے ہوں۔“ (خطبه جمعه فرموده 24 ستمبر 2004ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 686-699)