سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 63
63 سبیل الرشاد جلد چہارم اس کے بارے میں کچھ بتاؤں گا۔اور پھر احباب جماعت، افراد جماعت عہد یداروں سے کیسا رویہ رکھیں۔عہد یداروں کو تو ایک اصولی ہدایت قرآن نے دے دی ہے کہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے ہیں۔اگر کوئی غور کرے اور سوچے کہ انصاف کے کیا کیا تقاضے ہیں تو اس کے بعد کچھ بات رہ نہیں جاتی۔لیکن ہر کوئی اس طرح گہری نظر سے سوچتا نہیں۔اس طرح سوچا جائے جس طرح ایک تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے والا سوچتا ہے تو پھر تو اس کی یہ سوچ کر ہی روح فنا ہو جاتی ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں۔لیکن نصیحت کیونکہ فائدہ دیتی ہے جیسا کہ میں نے کہا باتوں سے اور جگالی کرتے رہنے سے یاددہانی ہوتی رہتی ہے۔بعض باتوں کی وضاحت ہو جاتی ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ مزید ذرا وضاحت کھول کر کر دی جائے۔عہد یداران غصہ کو دبائیں اور مکمل طور پر اپنے آپ کو عاجز بنا ئیں پہلی بات تو یہ ہے کہ عہدیدار اس بات کو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو یہ حکم فرمایا ہے کہ وَالْكَاظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (آل عمران : 135 ) یعنی غصہ دیا جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہوں۔تو اس کے سب سے زیادہ مخاطب عہدیداروں کو اپنے آپ کو سمجھنا چاہئے۔کیونکہ ان کی جماعت میں جو پوزیشن ہے جو ان کا نمونہ جماعت کے سامنے ہونا چاہئے وہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنے آپ کو عاجز بنائیں۔اگر اصلاح کی خاطر کبھی غصے کا اظہار کرنے کی ضرورت پیش بھی آ جائے تو علیحدگی میں جس کی اصلاح کرنی مقصود ہو، جس کا سمجھانا مقصود ہو اس کو سمجھا دینا چاہئے۔تمام لوگوں کے سامنے کسی کی عزت نفس کو مجروح نہیں کرنا چاہئے اور ہر وقت چڑ چڑے پن کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے۔یا کسی بھی قسم کے تکبر کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے۔اصلاح کبھی چڑنے سے نہیں ہوتی بلکہ مستقل مزاجی سے در در کھتے ہوئے اور دعا کے ساتھ نصیحت کرتے چلے جانے سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے۔اور ایک آدھ دفعہ کی جو غلطی ہے، اگر کوئی عادی نہیں ہے تو اصلاح کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ عفو سے کام لیا جائے۔معاف کر دیا جائے ، درگز ر کر دیا جائے۔جماعتی و ذیلی تنظیموں کے عہدیداران اپنے رویوں میں تبدیلی پیدا کریں اس لئے یہاں بھی ( مراد فرانس میں ) اور دنیا میں ہر جگہ جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہیں، جماعتی عہدیدار بھی اور ذیلی تنظیموں کے عہدیدار بھی اپنے رویوں میں ایک تبدیلی پیدا کریں۔لوگوں سے پیار اور محبت کا سلوک کیا کریں۔خاص طور پر بعض جگہ لجنہ کی طرف سے شکایات زیادہ ہوتی ہیں اور ان میں بھی خاص طور پر بچیوں یا نوجوان بچیوں اور نئے آنے والیوں جنہوں نے نظام کو پوری طرح سمجھا نہیں ہوتا ، ان کے لئے تربیت کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اس لئے ان کے لئے بہت خیال رکھنا چاہئے۔کیونکہ تربیت کرنے کی