سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 77
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 57 ارض ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مومن قرآن کریم پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال ایک ایسے پھل کی طرح ہے جس کا مزہ بھی عمدہ اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے۔ اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا مگر اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال اس کھجور کی طرح ہے کہ اس کا مزہ تو عمدہ ہے مگر اس کی خوشبو کوئی نہیں۔ اور ایسے منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اس خوشبو دار پودے کی طرح ہے جس کی خوشبو تو عمدہ ہے مگر مزا کڑوا ہے۔ اور ایسے منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ایسے کڑوے پھل کی طرح ہے جس کا مزا بھی کڑوا ہے جس کی خوشبو بھی کڑوی ہے۔ (بخاری کتاب فضائل القرآن باب اثم من رأى بقراءة القرآن او تأكل به او فخر به) اس حدیث سے قرآن کریم کی مزید وضاحت یہ ہوتی ہے کہ نہ صرف تلاوت ضروری ہے بلکہ اس کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ جو قرآن کریم پڑھتے بھی ہیں اور اس پر غور بھی کرتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں وہ ایسے خوشبودار پھل کی طرح ہیں جس کا مزا بھی اچھا ہے اور جس کی خوشبو بھی اچھی ہے۔ کیسی خوبصورت مثال ہے۔ کہ ایسا پھل جس کا مزا بھی اچھا ہے جب انسان کوئی مزیدار چیز کھاتا ہے تو پھر دوبارہ کھانے کی بھی خواہش ہوتی ہے۔ تو قرآن کریم کو جو اس طرح پڑھے گا کہ اس کو سمجھ آرہی ہو گی اس کو سمجھنے سے ایک قسم کا مزا بھی آرہا ہو گا اور جب اس پر عمل کر رہا ہو گا تو اس کی خوشبو بھی ہر طرف پھیلا رہا ہو گا۔ اس کے احکام کی خوبصورتی ہر ایک کو ایسے شخص میں نظر آرہی ہو گی۔ پس ایسے لوگ ہی ہوتے ہیں جو تقویٰ میں ترقی کرنے والے اور راہ ہدایت پانے والے ہوتے ہیں۔ ان کے گھر کے ماحول بھی جنت نظیر ہوتے ہیں۔ ان کے باہر کے ماحول بھی پر سکون ہوتے ہیں۔ وہ بیوی بچوں کے حقوق بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ماں باپ کے حقوق بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ صلہ رحمی کے بھی اعلیٰ معیار قائم کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ہمسایوں کے بھی حقوق ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے دنیاوی کاموں کے بھی حق ادا کر رہے ہوتے ہیں اور وہ جماعتی خدمات کو بھی ایک انعام سمجھ کر اس کی ادائیگی میں اپنے اوقات صرف کر رہے ہوتے