سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 63

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 43 کہ بعض لوگ بڑے ٹیڑھے ہوتے ہیں۔ مجھے علم ہے کہ امراء کے، عہدیداران کے، یا نظام جماعت کے ناک میں دم کیا ہوتا ہے ایسے لوگوں نے ، لیکن پھر بھی ان کی بد تمیزیوں کو جس حد تک برداشت کر سکتے ہیں کریں اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر کسی قسم کا شکوہ نہ کریں، بدلہ لینے کا خیال بھی کبھی دل میں نہ آئے۔ ان کے لئے دعا کریں، اللہ تعالیٰ سے مددمانگیں۔ (5) پھر یہ کہ نظام جماعت کا استحکام اور حفاظت سب سے مقدم رہنا چاہیے اور اس کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ پھر کبھی اپنے گرو جی حضوری کرنے والے یا خوشامد کرنے والے لوگوں کو اکٹھا نہ ہونے دیں۔ جن عہدیداروں پر ایسے لوگوں کا قبضہ ہو جاتا ہے پھر ایسے عہدیداران سے انصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ایسے عہدیدار پھر ان لوگوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن جاتے ہیں۔ تبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا کی تلقین فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی بڑے مشیر میرے ارد گرد اکٹھے نہ کرے۔ (6) پھر یہ بھی یاد رکھنے والی بات ہے جیسا کہ میں بیان بھی کر چکاہوں کہ جہاں نظام جماعت کے تقدس پر حرف نہ آتا ہو ، عفو اور احسان کا سلوک کریں۔ ان کے لئے مغفرت مانگیں جو ان کی اصلاح کا موجب بنے۔ یہ تو عہدیدارن کے لئے ہے لیکن آخر میں میں پھر احباب جماعت کے لئے ایک فقرہ کہہ دیتا ہوں کہ آپ پر بھی، جو عہدیدار نہیں ہیں، ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کا کام صرف اطاعت، اطاعت اور اطاعت ہے اور ساتھ دعا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 دسمبر 2003ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 1 صفحہ 531-532)