سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 37 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 37

سبیل الرشاد جلد چہارم 37 فرمایا کہ شروع سے ہی اپنے نظام کو مضبوط کریں۔اگر آپ نے شروع میں توجہ نہ دی تو پھر بہت پیچھے رہ جائیں گے، الفضل انٹر نیشنل 23 تا 29 اپریل 2004ء) دستور اساسی کے مطابق کام کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 10 اپریل 2004 ء کو نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ بین کی میٹنگ میں اراکین کے کام کا جائزہ لیا اور ہدایات دیتے ہوئے فرمایا ” دستور اساسی کے مطابق عہدے بنا کر کام کریں اور الفضل انٹر نیشنل 7 تا 13 رمئی 2004ء) ہر ماہ اپنی رپورٹس مجھے بھجوائیں ذیلی تنظیموں کا مقصد جماعت میں ہر عمر کے احمدی کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانا ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 21 مئی 2004 ء کو خطبہ جمعہ میں خلافت ایک دائمی سلسلہ ہے کی تفصیل بیان فرمائی۔اس دوران حضور نے انصار کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلاتے ہوئے فرمایا۔غرض کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور 52 سال رہا اور ہر روز ایک نئی ترقی لے کر آتا تھا۔کئی زبانوں میں آپ کے زمانے میں تراجم قرآن کریم ہوئے۔بیرونی دنیا میں مشن قائم ہوئے۔افریقہ میں، یورپ میں مشنز قائم ہوئے اور بڑی ذاتی دلچسپی لے کر ذاتی ہدایات دے کر۔اس زمانے میں دفاتر کا بھی نظام اتنا نہیں تھا۔خود مبلغین کو براہ راست ہدایات دے دے کر اس نظام کو آگے بڑھایا اور پھر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ہندو پاکستان میں بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی اور خاص طور پر افریقہ میں لاکھوں کی تعداد میں سعید روحوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوئیں۔پھر دیکھیں آپ نے کس طرح انتظامی ڈھانچے بنائے۔صدرانجمن احمدیہ کا قیام تو پہلے ہی تھا اس میں تبدیلیاں کیں ، ردو بدل کی۔اس کو اس طرح ڈھالا کہ انجمن اپنے آپ کو صرف انجمن ہی سمجھے اور کبھی خلافت کے لئے خطرہ نہ بن سکے۔پھر ذیلی تنظیموں کا قیام ہے، انصار اللہ، خدام الاحمدیہ، لجنہ اماءاللہ آپ کی دور رس نظر نے دیکھ لیا کہ اگر میں اس طرح جماعت کی تربیت کروں گا کہ ہر عمر کے لوگوں کو ان کی ذمہ واری کا احساس دلا دوں اور وہ یہ سمجھنے لگیں کہ اب ہم ہی ہیں جنہوں نے جماعت کو سنبھالنا ہے اور ہر فتنے سے بچانا ہے۔اپنے اندر نیک تبدیلی اور پاک تبدیلی پیدا کرنی ہے۔اگر یہ احساس پیدا ہو جائے قوم کے لوگوں میں تو پھر اس قوم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔تو دیکھ لیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب دنیا کے ہر