سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 36
سبیل الرشاد جلد چہارم 36 عہد یداران اپنے عزیز رشتے داروں اور دیگر احباب جماعت میں فرق نہ کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 6 فروری 2004ء کو فر مایا۔" پہلی بات جو اس میں بیان کی گئی ہے، اس کی میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ جو کام تم اللہ تعالیٰ کی خاطر کر رہے ہو اس میں ہمیشہ خلوص نیت ہونا چاہئے۔جماعتی عہدے جو تمہیں دئے جاتے ہیں انہیں نیک نیتی کے ساتھ بجالاؤ۔صرف عہدے رکھنے کی خواہش نہ رکھو بلکہ اس خدمت کا جو حق ہے وہ ادا کرو۔ایک تو خود اپنی پوری استعدادوں کے ساتھ اس خدمت کو سرانجام دو۔دوسرے اس عہدے کا صحیح استعمال بھی کرو۔یہ نہ ہو کہ تمہارے عزیزوں اور رشتہ داروں کے لئے اور اصول ہوں، ان سے نرمی کا سلوک ہو اور غیروں سے مختلف سلوک ہو، ان پر تمام قواعد لاگو ہور ہے ہوں۔ایسا کرنا بھی خیانت ہے۔پھر اس عہدے کی وجہ سے تم یا تمہارے عزیز کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے والے نہ ہوں۔مثلاً یہ بھی ہوتا ہے کہ چندوں کی رقوم اکٹھی کرتے ہیں۔تو بہتر یہی ہے کہ ساتھ کے ساتھ جماعت کے اکاؤنٹ میں بھجوائی جاتی رہیں۔یہ نہیں کہ ایک لمبا عرصہ رقوم اپنے اکاؤنٹ میں رکھ کر فائدہ اٹھاتے رہے۔اگر امیر نے یا مرکز نے نہیں پوچھا تو اس وقت تک فائدہ اٹھاتے رہے۔یہ بالکل غلط طریقہ ہے۔اور اگر کبھی مرکز پوچھ لے تو کہ دیا کہ ہم نے یہ رقم ادا کرنی تھی مگر بہانے بازی کی کہ یہ ہو گیا اس لئے ادا نہیں کر سکے۔تو غلط بیانی اور خیانت دونوں کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔شیطان چونکہ انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے اس لئے ایسے مواقع پیدا ہی نہ ہونے چاہئیں اور ان سے بچنا چاہئے۔پھر یہ ہے کہ اپنے بھائیوں کے کام آؤ، ان کے حقوق ادا کرو۔پھر یہ بھی یا درکھو کہ نظام جماعت کے ساتھ ہمیشہ چمٹے رہو ، نظام کی پوری پابندی کرو۔کسی بات پر اعتراض پیدا ہوتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ وہ اعتراض انسان کو بہت دور تک لے جاتا ہے۔اور پھر آہستہ آہستہ عہدے داروں سے بڑھ کر نظام تک اور پھر نظام سے بڑھ کر خلافت تک یہ اعتراض چلے جاتے ہیں۔اس لئے اگر یہ کرو گے تو یہ بھی خیانت ہے" خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 109-110 ) انصار اللہ کے نمونہ سے ہی دوسروں نے سبق لینا ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 14اپریل 2004ء کو نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ بور کینا فاسو کی میٹنگ میں شعبہ وائز عاملہ کے ممبران کے کام کا جائزہ لیا اور تفصیل سے ہدایات دیتے ہوئے فرمایا: انصار اللہ کے نمونہ سے ہی دوسروں نے سبق لینا ہے اس لئے آپ کو اعلیٰ نمونہ قائم کرنا چاہئے۔