سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 23 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 23

23 سبیل الرشاد جلد چہارم تو جماعتی کاموں میں بھی زیادہ فائدہ مند اور مفید وجود ثابت ہوتے ہیں اور اس نظام کا ایک حصہ بنتے ہیں۔تو بہر حال انہی ذیلی نظاموں کا حصہ بنتے ہوئے ہر بچہ، جوان ، عورت، مرد، جب جماعتی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں تو گو جماعتی نظام پہلے ہے، مقدم ہے۔لیکن اس میں ہر بچے اور نوجوان کی اس طرح مکمل Involvement نہیں ہوتی جس طرح کہ شروع میں ذیلی تنظیموں میں ہو رہی ہوتی ہے اور ہو بھی نہیں سکتی۔اس لئے حضرت مصلح موعودؓ کی دور رس نظر نے ذیلی تنظیموں کا قیام کیا تھا اور یہ آپ کا ایک بہت بڑا احسان ہے جماعت پر۔اور اسی وجہ سے جیسا کہ میں نے کہا، ابتداء سے ہی جماعت کے ہر بچہ کے ذہن میں جماعتی نظام کا ایک تقدس اور احترام پیدا ہو جاتا ہے۔اور اسی احترام اور تقدس کے تحت وہ پروان چڑھتا ہے اور چونکہ ابتداء سے ہی نظام کا تصور پیار ومحبت اور بھائی چارے اور مل جل کر کام کرنے کی روح کے ساتھ وہ بچہ پروان چڑھ رہا ہوتا ہے اور پھر خلیفہ وقت کے ساتھ ہر موقع پر ذاتی پیار و محبت کا تعلق اس ٹریننگ کی وجہ سے ہو رہا ہوتا ہے اور ہو جاتا ہے اس لئے ہر فرد جماعت جب جماعت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہو اور اپنے عہد یداران کی اطاعت بخوشی کرتا ہے تو اس لئے کرتا ہے کہ بچپن سے نظام کے بارہ میں پڑنے والی آواز اور خلیفہ وقت سے ذاتی تعلق اور پیار کی وجہ سے مجبور ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظام جماعت چونکہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے اور خلیفہ وقت کی براہ راست اس پر نظر ہوتی ہے اس لئے نئے شامل ہونے والے، نومبائعین بھی ان احمدیوں کے علاوہ بھی جو پیدائشی احمدی ہوں، بڑی جلدی نظام میں سموئے جاتے ہیں۔عہد یداران کو غصہ کی عادت ترک کرنی ہوگی لیکن جیسے جیسے یہ سلسلہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جارہا ہے، نظام جماعت کو چلانے والے کارکنان اور عہدیداران کی ذمہ داریاں بھی زیادہ بڑھتی چلی جارہی ہیں۔انہیں تسبیح اور استغفار کی طرف توجہ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ کا جو حکم ہے اس طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اور یہی چیز ان کو زیادہ احساس دلا رہی ہے، یا کم از کم احساس دلانا چاہئے کہ اپنی طبیعتوں میں نرمی پیدا کرنے کی طرف زیادہ توجہ دیں۔اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دینے کے احساس کو زیادہ ابھارنے کی ضرورت ہے۔نظام جماعت کی ذمہ داری ادا کرتے وقت اپنی اناؤں اور خواہشات کو مکمل ختم کر کے خدمت سرانجام دینے کی طرف توجہ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے اور پہلے سے بڑھ کر ضرورت ہے۔ذراذراسی بات پر غصہ میں آجانے کی عادت کو عہدیداران کو ترک کرنا ہوگا اور کرنا چاہئے۔جماعت کے احباب سے پیار، محبت کے تعلق کو بڑھانے ، ان کی باتوں کو غور اور توجہ سے سنے اور ان کے لئے دعائیں کرنے کی عادت کو مزید بڑھانا چاہئے تبھی سمجھا جا سکتا ہے کہ عہدیداران اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کر رہے ہیں یا کم از کم ادا کرنے کی