سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 397 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 397

سبیل الرشاد جلد چهارم 397 کر یہ معیار حاصل کرنا یا حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔پس اسلام کے احیائے نو کا یہی تو وہ انقلاب ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیدا کرنے کے لئے آئے تھے۔اگر واقع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مقام ہر ایک کو معلوم ہو اور آپ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے کی ہر ایک میں تڑپ ہو، اگر ہمیں پتا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر کتنے عظیم نشانات دکھائے اور آپ کے ماننے والوں میں سے بھی بے شمار کو نشانات سے نوازا تو ہم میں سے ہر ایک اُس مقام کے حصول کی خواہش کرتا اور اس کے لئے کوشش کرتا جہاں اُس سے بھی براہ راست یہ نشان ظاہر ہوتے اور اُسے نظر آتے۔قوتِ ایمان میں وہ جلاء پیدا ہو جاتی جس کے ذریعہ سے پھر ایسی قوت ارادی پیدا ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے ایک خاص جوش پیدا کر دیتی ہے۔پس اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات جن کا اظہار اللہ تعالیٰ آج تک فرماتا چلا آ رہا ہے ہمارے دلوں میں ایک جوت جگانے والا ہونا چاہئے کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر کے آپ علیہ السلام اور اپنے اور آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کے طفیل آپ کے ہر اُسوہ کو اپنے اوپر لاگو کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُس مقام پر پہنچ جائیں جہاں اللہ تعالیٰ ہم سے ایک خاص پیار کا سلوک کر رہا ہو۔دینی امور میں نقل کرنی چاہئے ہم دنیا وی چیزوں میں تو دوسروں کی نقل کرتے ہیں۔کسی کی اچھی چیز دیکھ کر اُس کو حاصل کرنے کی خواہش کرتے ہیں یا کوشش کرتے ہیں اور پھر اس کے لئے کئی طریقے بھی استعمال کرتے ہیں ، اور اس معاملے میں ہر ایک اپنی سوچ اور اپنی پہنچ کے مطابق عمل کرنے کی یا نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔کوئی کسی کا مثلاً اچھا ، خوبصورت جوڑا ہی پہنا ہوا دیکھ لے، سوٹ پہنا ہوا دیکھ لے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اُس کو بھی مل جائے اور اس کے پاس بھی ایسا ہی ہو۔کوئی کوئی اور چیز دیکھتا ہے تو اُس کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔اب تو ٹی وی نے دنیا کو ایک دوسرے کے اتنا قریب کر دیا ہے کہ متوسط طبقہ تو الگ رہا، غریب افراد بھی یہ کوشش کرتے ہیں کہ میرے پاس زندگی کی فلاں سہولت بھی موجود ہونی چاہئے اور فلاں سہولت بھی موجود ہونی چاہئے۔ٹی وی بھی ہو میرے پاس اور فریج بھی ہو میرے پاس کیونکہ فلاں کے پاس بھی ہے۔وہ بھی تو میرے جیسا ہے۔یہ نہیں سوچتے کہ اگر فلاں کو یازید کو یہ چیزیں اُس کے کسی عزیز نے تجھے لے کر دی ہیں تو مجھے اس بات پر لالچ نہیں کرنا چاہئے۔فوراً یہ خیال ہوتا ہے کہ زید کے پاس یہ چیز ہے تو میرے پاس بھی ہوا اور پھر قرض کی کوشش ہو جاتی ہے۔یا بعض لوگوں کو اس کام کے لئے بعض جگہوں پر امداد کی درخواست دینے کی بھی عادت ہوگئی ہے۔بیشک جماعت کا فرض ہے کہ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے ضرورتمند کی ضرورت پوری کرے