سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 391 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 391

سبیل الرشاد جلد چہارم 391 کیوں، اکثریت کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو گئی ہے کہ لمبی کہانی بنائے بغیر اور جھوٹی کہانی بنائے بغیر ہمارے کیس پاس نہیں ہوں گے۔حالانکہ کئی مرتبہ میں کہہ چکا ہوں کہ اگر مختصر اور صحیح بات کی جائے تو کیس جلدی پاس ہو جاتے ہیں۔ایسی کئی مثالیں میرے سامنے ہیں۔کئی لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے سچی اور مختصری بات کی ہے اور چند دنوں میں کیس پاس ہو گیا۔اس کے لئے تو یہی کافی ہے کہ دماغی ٹارچر اب اُن سے برداشت نہیں ہوتا۔جہاں ہر وقت اپنا بھی دھڑ کا ہے اور اپنے بچوں کا بھی دھڑ کا ہے۔بہت ساری پریشانیاں ہیں۔سکول نہیں جاسکتے ، سکولوں میں تنگ کئے جاتے ہیں تو اس طرح کی بہت ساری چیزیں ہیں۔اسی بات پر اکثریت جو کیس ہیں وہ پاس ہو جاتے ہیں۔پس سچائی پر قائم رہنا چاہئے اور پھر خدا تعالیٰ پر توکل بھی کرنا چاہئے۔یہ جھوٹی کہانیاں جب بچوں کے سامنے ذکر ہوں کہ ہم نے حج کو یہ کہانی سنائی اور وہ سنائی تو پھر بچے بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جھوٹ بولنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔اگر جھوٹ نہ بولتے تو شاید ہمارا کیس پاس نہ ہوتا یا ہمیں فائدہ نہ پہنچ سکتا۔یہ تصور پیدا ہو جاتا ہے کہ جھوٹ ہی ہے جو تمام ترقیات کی چابی ہے۔یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ آجکل بھلا کون ہے جو سچ بولتا ہے۔تو یہ سب باتیں بچوں کے ذہنوں میں اپنے بڑوں کی باتیں سن کر پیدا ہوتی ہیں۔اور پھر اُن کا علم یہیں محدود ہو جاتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایسی بُری بات نہیں ہے۔اور نتیجہ کیا ہوگا پھر ؟ نتیجہ ظاہر ہے کہ بڑے ہو کر جہاں جہاں بھی ایسے بچے کو جھوٹ بولنے کا موقع ملے گا وہ اپنی قوت موازنہ سے فیصلہ چاہے گا تو قوت موازنہ اُسے فوراً یہ فیصلہ دے دے گی کہ خطرہ زیادہ ہے، جھوٹ بول لو، اس میں کوئی حرج نہیں۔اسی طرح غیبت ہے۔اگر بچہ اپنے ارد گر د غیبت کرتے دیکھتا ہے کہ تمام لوگ ہی غیبت کر رہے ہیں تو بڑا ہو کر اس کے سامنے جب غیبت کا موقع آتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے غیبت کی تو مجھے فائدہ پہنچے گا تو قوت موازنہ اُسے کہتی ہے، تمہارے اردگرد تمام غیبت کرتے ہیں اگر تم غیبت کر لو تو کیا حرج ہے۔گویا گناہ تو ہے لیکن اتنا بڑا گناہ نہیں۔اس بارے میں گزشتہ ایک خطبہ میں بات ہو چکی ہے کہ اصلاح اعمال میں ایک بہت بڑی روک یہ ہے کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ بعض گناہ بڑے ہیں اور بعض چھوٹے گناہ ہیں اور ان کو کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اور پھر ان گناہوں کو جب ایک دفعہ انسان کر لے تو چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔یہاں انسان میں قوتِ موازنہ تو موجود ہوتی ہے مگر اس غلط علم کی وجہ سے جو اُ سے ماحول نے دیا ہے، وہ انسان کو اتنی طاقت نہیں دیتی جس طاقت کے ذریعہ سے وہ گنا ہوں پر غالب آ سکے۔جیسے کہ وزن اُٹھانے کی مثال بیان کی گئی تھی۔کمزور طاقت ایک وزن کو اُٹھا نہ سکی لیکن جب دماغ نے زیادہ وزن اُٹھانے کی طاقت بھیجی تو وہی ہاتھ اُس زیادہ وزن کو اُٹھانے کے قابل ہو گیا۔لیکن اگر انسان کی قوت موازنہ یہ حکم دماغ کو نہ بھیجتی تو وہ وزن نہ اُٹھا سکتا۔اسی طرح گناہوں کو مٹانے میں بھی یہی اصول ہے۔گناہوں کو مٹانے کی طاقت انسان میں ہوتی ہے لیکن جب گناہ سامنے آتا ہے اور قوتِ مواز نہ یہ کہہ دیتی ہے کہ اس گناہ میں