سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 22

سبیل الرشاد جلد چہارم 22 اندازہ لگا لیا کہ نوجوانوں کے نوجوانوں نے ، خدام الاحمدیہ کو بھی ہرا دیا رسہ کشی میں۔تو الحمد للہ جہاں یہ خوشی ہے انصار اللہ کے لئے وہاں خدام الاحمدیہ کے لئے فکر کا مقام بھی ہے کہ بوڑھے اُن سے آگے نکل گئے ہیں۔ان کاموں میں تو کم از کم ان کو آگے نکلنا چاہیے۔بس یہ چند گزارشات تھیں اس پر ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کو ہمت سے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے تبلیغ کے کام کو بھی ، تربیت کے کام کو بھی اور عبادت کو بھی حقیقی رنگ میں بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔(ماہنامہ اخبار احمد یہ برطانیہ جنوری، فروری، مارچ 2014ء) ذیلی تنظیموں کا قیام حضرت مصلح موعودؓ کا جماعت پر بہت بڑا احسان ہے حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ مورخہ 5 دسمبر 2003ء میں جماعتی اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداران کو گرانقدر نصائح سے نوازتے ہوئے فرمایا۔ابتدائی ذیلی تنظیمیں بچوں اور نو جوانوں کو اطاعت سکھلاتی ہیں " جماعت احمدیہ کا نظام ایک ایسا نظام ہے جو بچپن سے لے کر مرنے تک ہر احمدی کو ایک پیار اور محبت کی لڑی میں پرو کر رکھتا ہے۔بچہ جب سات سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسے ایک نظام کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا ہے اور وہ مجلس اطفال الاحد یہ کا ممبر بن جاتا ہے۔ایک بچی جب سات سال کی عمر کو پہنچتی ہے تو وہ ناصرات الاحمدیہ کی رکن بن جاتی ہے جہاں انہیں ایک ٹیم ورک کے تحت کام کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔پھر انہی میں سے ان کے سائق بنا کر اپنے عہدیدار کی اطاعت کا تصور پیدا کیا جاتا ہے۔پھر پندرہ سال کی عمر کو جب پہنچ جائیں تو بچے خدام الاحمدیہ کی تنظیم میں اور بچیاں لجنہ اماءاللہ کی تنظیم میں شامل ہو جاتی ہیں اور ایک انتظامی ڈھانچے کے تحت بچپن سے تربیت حاصل کر کے اوپر آنے والے بچے اور بچیاں ہیں جب نو جوانی کی عمر میں قدم رکھتے ہیں تو ان نیک تنظیموں میں شامل ہونے سے جماعتی نظام اور طریقوں سے ان کو مزید واقفیت پیدا ہوتی ہے۔اور عمر کے ساتھ ساتھ کیونکہ اب یہ بچے اور بچیاں اس عمر کو پہنچ جاتے ہیں جس میں شعور پیدا ہو جاتا ہے۔اس لئے پندرہ سال کی عمر کے بعد یہ خود بھی اپنے میں سے ہی اپنے عہدیدار منتخب کرتے ہیں اور ان کے تحت ان کی تربیت ہو رہی ہوتی ہے اور نظام چل رہا ہوتا ہے۔تو پندرہ سال کی عمر کے بعد جیسا کہ میں نے کہا کہ لجنہ یا خدام میں جا کر یہ لوگ اپنے عہدیدار اپنے میں سے منتخب کرتے ہیں اور پھر مرکزی ہدایات کی روشنی میں متفرق امور اور تربیتی امور خود سر انجام دے رہے ہوتے ہیں اور ان پر عمل بھی کرتے ہیں۔تو بچپن سے ہی ایسی تربیت حاصل کرنے کی وجہ سے، ایسے پروگراموں میں شمولیت کی وجہ سے ان کو ٹریننگ ہو جاتی ہے اور پھر یہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں اور جماعتی نظام میں پوری طرح سموئے جاتے ہیں