سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 21

سبیل الرشاد جلد چہارم 21 اُن کے دماغ چلتے ہیں۔اسی لئے حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے 40 سال سے 55 سال تک کے لئے بعد میں انصار اللہ کی صف دوم کا قیام فرمایا اور اس کے لئے ایک نائب صدر بھی علیحدہ ہوتا ہے تو جو بڑی عمر سے ہیں ان لوگوں کو چاہئے کہ جو 40 سال سے 55 سال کی عمر تک کے ہیں کہ بڑوں سے تجربہ حاصل کریں۔اور بڑوں کو چاہئے کہ اپنے تجربے سے اس عمر کے انصار کو تربیت دیں اور اُن کو راہنمائی کریں اور برداشت کرنے کا بھی مادہ پیدا کریں۔یہ نہیں کہ ہم بڑے ہیں تو اس لئے ہمارے پاس ہی سارے عہدے ہونے چاہئیں۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ ایک الہی قدرت کا کرشمہ ہے کہ ایک زمانہ انسان پر ایسا آتا ہے جب اس کے جسمانی قوی تو نشو و نما پاتے ہیں مگر اس کے دماغی قولی ابھی پردہ میں ہوتے ہیں۔یہ نہیں کہتا کہ ان میں انحطاط واقع ہو جاتا ہے اُن میں گراوٹ آنی شروع ہو جاتی ہے اُن میں کمی شروع ہو جاتی ہے۔انحطاط نہیں بلکہ قومی دماغیہ ایک پردے کے اندر رہتے ہیں اور یہ زمانہ وہ ہوتا ہے جو 25 سال سے 40 تک کی عمر کا ہے۔لیکن پھر اس کے بعد ایک زمانہ ایسا آتا ہے جو جسم میں نشو نما اور ارتقاء کی طاقت تو نہیں رہتی مگر جو اسے کمال حاصل ہو چکا ہوتا ہے وہ قائم رہتا ہے۔یہی وہ زمانہ ہے جس میں خدا تعالیٰ عام طور پر نبیوں کو اصلاح خلق کے لئے کھڑا کیا کرتا ہے گویا یہ زمانہ بَلَغَ أَشُدَّہ کا زمانہ ہوتا ہے، طاقتیں اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہیں۔پس جب میں نے انصار اللہ میں شمولیت کے لئے 40 سال سے اوپر کی شرط رکھی تو اس کے معنے یہ تھے کہ کام کرنے کا بہترین زمانہ انہیں حاصل تھا۔تمام عمر کے انصار سے انصار اللہ تنظیم کام لے بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے ہم انصار کی عمر کو پہنچ گئے ہیں اس لئے اب ہم کچھ نہیں کر سکتے۔فرمایا کہ بشرطیکہ اس عمر والوں سے فائدہ اٹھایا جاتا مگر مجھے افسوس ہے کہ انہوں نے اس حکمت کو نہ سمجھا اور کام اُنہی لوگوں کے سپر د رکھا جو زیادہ عمر کے ہیں۔حالانکہ اگر سارے کے سارے کام اُن لوگوں کے سپرد کر دئے جائیں جو 60 سال سے اوپر یا 70 سال کے قریب ہوں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگوں کے پاس دماغ تو ہوگا مگر کیونکہ کام کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں نہیں ہوں گے اس لئے وہ کام خراب ہو جائے گا۔مفید نتائج کا حصول نہیں ہوگا۔لیکن الحمد للہ جب سے صف دوم قائم ہوئی ہے، ہر طرح کے انصار اپنے کاموں میں شامل ہوتے ہیں تو عاملہ کے ممبران کے علاوہ بھی جو دوسرے انصار میں مجلس عاملہ کو اور انصار اللہ کی تنظیم کو کوشش کرنی چاہئے کہ اُن کو بھی زیادہ سے زیادہ اپنے پروگراموں میں شامل کریں اور ایسے لوگ جو ایک عمر کے بعد مایوس ہونا شروع ہو جاتے ہیں اُن کو مایوسی سے نکالیں۔اُن کی مایوسی دور کریں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ میں نے کہا صف دوم کی وجہ سے نئی قوت اور ہمت پیدا ہو چکی ہے انصار اللہ میں۔اب انصار اللہ کا وہ تصور نہیں ہے کہ 40 سال سے اوپر نکلے اور جو بھی کام کرتے تھے پہلے، وہ اب ختم ہو جائیں اور آج کی کھیلوں میں آپ نے