سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 379
سبیل الرشاد جلد چہارم 379 ہیومینیٹی فرسٹ کو دیں اور 70 فیصد لوکل چیریٹیز کو دیں۔اس سے آپ کا تعارف بڑھے گا اور تبلیغ کا ذریعہ بنے گا اور اسلام کی غلط تصویر کا تصور زائل ہوگا۔حضور انور نے فرمایا: آپ سب انصار کو توجہ دلائیں کہ اپنے گھروں میں اپنے بچوں کی نگرانی کریں کہ نمازیں پڑھ رہے ہیں۔قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔مسجد میں ان کو اپنے ساتھ لائیں تا کہ ان کو مسجد آنے کی عادت پڑے۔ان کو دین کا علم سکھائیں اور ان کی تربیت کریں۔قائد تعلیم القرآن و وقف عارضی کو حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا وقف عارضی کی سکیم بنائیں۔سال میں دو تین دفعہ وقف عارضی کریں۔انصار وقف عارضی کے دوران بچوں کی کلاسیں لیں اور ان کو قرآن کریم پڑھائیں اور دینی معلومات پڑھائیں۔اسلام کی بنیادی باتیں بتائیں۔حضور انور نے فرمایا: اس بارہ میں آپ کو مسلسل کوشش کرنا پڑے گی۔بار بار کی یاددہانی اور Follow Up کرنا پڑے گا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں یہ رپورٹ پیش کی گئی کہ یہاں آسٹریلیا میں چائنیز کی بڑی تعداد ہے۔اس پر حضور انور نے فرمایا : ہمارے پاس چائنیز لٹریچر موجود ہے۔کتاب Pathway to Peace کا بھی چائنیز زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔چائینیز لٹریچر لندن سے منگوائیں، سنگا پور سے بھی جائزہ لے لیں۔ان کے پاس بھی چائنیز لٹریچر موجود ہے اور چائنیز کو دیں۔جو عرب لوگ ہیں ان کو عربی میں لٹریچر دیں۔جو دوسری قومیں ہیں ان کو ان کی زبانوں میں دیں۔حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ بعض کتابوں کی قیمتیں آپ نے زیادہ رکھی ہوئی ہیں۔مثلا کتاب Pathway to Peace آپ پانچ ڈالر میں دے رہے ہیں۔یہ دو ڈالر میں دیں۔اصل چیز پیغام پہنچانا ہے۔پیسے کمانا نہیں ہے۔نائب صدر صف دوم نے حضور انور کے استفسار پر بتایا کہ انصار کی سائیکلنگ تو کم ہوتی ہے لیکن دوسری کھیلیں ہوتی ہیں۔حضور انور نے فرمایا: بوڑھے اپنے آپ کو بوڑھا نہ سمجھیں ، 40 سال کے بعد ضروری نہیں کہ آپ بوڑھے ہو جائیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فرمایا تھا کہ ایک خادم چالیس سال تک خدام میں بڑی مستعدی سے کام کرتا ہے تو پھر پتہ نہیں کہ انصار میں آکرست کیوں ہو جاتا ہے تو اس بارہ میں آپ سوچیں اور اپنا جائزہ لیں۔الفضل انٹر نیشنل 13 دسمبر 2013ء)