سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 20

20 سبیل الرشاد جلد چہارم پھر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں یاد رکھو تمہارا نام انصار اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے مددگار۔گویا تمہیں اللہ تعالیٰ کے نام کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ از لی اور ابدی ہے اس لئے تم کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ ابدیت کے مظہر ہو جاؤ۔تم اپنے انصار ہونے کی علامت یعنی خلافت کو ہمیشہ ہمیش کیلئے قائم رکھتے چلے جاؤ اور کوشش کرو یہ کام نسلاً بعد نسل چلتا چلا جاوے اور اس کے دو ذریعے ہو سکتے ہیں ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی جائے اور اس میں خلافت کی محبت قائم کی جائے اور اگر تم حقیقی انصار اللہ بن جاؤ اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرلو تو تمہارے اندر خلافت بھی دائمی طور پر رہے گی۔خلافت کے ساتھ انصار کے نام کو ہمیشہ کے لئے زندہ رکھو فرمایا کہ آپ نے انصار کا نام قبول کیا ہے تو صحابہ جیسی محبت بھی پیدا کریں۔آپ کے نام کی نسبت خدا تعالیٰ سے ہے اور خدا تعالیٰ ہمیشہ رہنے والا ہے۔اس لئے تمہیں بھی چاہیے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ انصار کے نام کو ہمیشہ کے لئے قائم رکھو۔اور ہمیشہ دین کی خدمت میں لگے رہو۔کیونکہ اگر خلافت قائم رہے گی تو اس کو انصار کی بھی ضرورت ہوگی ، خدام کی بھی ضرورت ہوگی اور اطفال کی بھی ضرورت ہو گی۔ورنہ اکیلا آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا۔اکیلا نبی بھی کوئی کام نہیں کر سکتا۔دیکھو حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حواری دیئے ہوئے تھے اور رسول کریم کو بھی اللہ تعالیٰ نے صحابہ کی جماعت دی تھی۔اسی طرح اگر خلافت قائم رہے گی تو ضروری ہے کہ اطفال الاحمدیہ، خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ بھی قائم رہیں۔اور جب یہ ساری تنظیمیں قائم رہیں گی تو خلافت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم رہے گی انشاء اللہ۔پھر آپ نے فرمایا کہ انصار اللہ خصوصیت کے ساتھ اپنے کام کی نگرانی کریں تا کہ ہر جگہ اور ہر مقام پر ان کا کام نمایاں ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے اور محسوس کرنے لگ جائیں کہ یہ ایک زندہ اور کام کرنے والی جماعت ہے۔مگر میں سمجھتا ہوں جب تک انصار اللہ اپنی ترقی کے لئے صحیح طریق اختیار نہیں کریں گے اس وقت تک انہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔میں سمجھتا ہوں بڑی عمر کے لوگوں کو ضرور یہ احساس اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے کہ وہ شباب کی عمر میں سے گزر کر اب ایسے حصہ عمر میں گزر رہے ہیں جس میں دماغ تو سوچنے کے لئے موجود ہوتا ہے مگر زیادہ عمر گزرنے کے بعد ہاتھ پاؤں محنت ، مشقت اور کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔اس کی وجہ سے اُن کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے کاموں کے سرانجام دینے کے لئے کچھ نو جوان سیکر یٹری 40 سال کے اوپر کے مگر زیادہ عمر کے نہ ہوں، مقرر کر لیں جن کے ہاتھ پاؤں میں طاقت ہو اور وہ دوڑنے ، بھاگنے کا کام آسانی سے کر سکیں۔تاکہ ان کاموں میں سستی اور غفلت کے آثار پیدا نہ ہوں۔آپ نے اس وقت فرمایا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر 40 سال سے 55 سال کی عمر تک کے لوگوں پر نظر دوڑاتے تو ضرور اس عمر کے لوگوں میں ایسے لوگ مل جاتے جن کے ہاتھ پاؤں بھی ویسے ہی چلتے ہیں جیسے