سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 19
19 سبیل الرشاد جلد چہارم کیونکہ اس میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی آواز سُن کر اُسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور جب یہ چیز مٹ جاتی ہے اور لوگ خدا تعالیٰ سے بے تعلق ہو جاتے ہیں تو اس وقت قو میں بھی مرنے لگ جاتی ہیں۔پس آپ لوگوں کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور اپنی اولادوں کو بھی ذکر الہی کی تلقین کرتے رہنا چاہیے۔پھر تہجد اور ذکر الہی اور مساجد کی آبادی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت کی دماغی نمائندگی انصار اللہ کرتے ہیں۔جب کسی قوم کے دماغ اور دل اور ہاتھ ٹھیک ہوں تو وہ قوم بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔پس میں پہلے تو انصار کو یہ توجہ دلاتا ہوں ان میں سے وہ ہیں جو صحابی ہیں یا کسی صحابی کے بیٹے ہیں ( اور اسوقت یہاں کافی صحابہ کی اولاد میں سے بھی ہیں ) یا کسی صحابی کے شاگرد ہیں۔اس لئے جماعت میں نمازوں، دعاؤں اور تعلق باللہ کو قائم رکھنا اُن کا کام ہے۔اُن کو تہجد ، ذکر الہی اور مساجد کی آبادی میں اتنا حصہ لینا چاہیے کہ نوجوان اُن کو دیکھ کر خود ہی ان باتوں کی طرف مائل ہو جائیں۔اصل میں تو جوانی کی عمر ہی وہ زمانہ ہے جس میں تہجد، دعا اور ذکر الہی کی طاقت بھی ہوتی ہے اور مزہ بھی آتا ہے۔لیکن عام جوانی کے زمانے میں موت اور عاقبت کا خیال کم ہوتا ہے اس وجہ سے نوجوان غافل ہو جاتے ہیں لیکن نو جوانی میں اگر کسی کو یہ توفیق مل جائے تو وہ بہت ہی مبارک وجود ہوتا ہے۔پس ایک طرف تو میں انصار اللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے نمونے سے اپنے بچوں اپنے ہمسایوں کے بچوں اور اپنے دوستوں کے بچوں کو زندہ کریں اور دوسری طرف میں خدام الاحمدیہ کو وجہ دلاتا ہوں کہ وہ اتنا اعلیٰ نمونہ دکھائیں کہ نسلاً بعد نسل اسلام کی روح زندہ رہے۔پس آپ نے نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے جو عہد باندھا ہے اس کو پورا کرنے کے لئے اپنی تمام استعدادوں کو بروئے کارلائیں۔جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ تعلق باللہ کو بڑھائیں۔دعاؤں اور نمازوں کی طرف زیادہ توجہ دیں۔تہجد میں بھی باقاعدگی اختیار کریں۔اپنی راتوں کو زندہ کریں۔اپنے بچوں اپنے احمدی ماحول کے بچوں کی تربیت کی فکر اپنے اندر پیدا کریں۔بعض والدین بڑی پریشانی اور فکر کے ساتھ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے بچے جوانی کو پہنچ کر ہمارے ہاتھوں سے نکل رہے ہیں یا نکل گئے ہیں تو بہر حال جو وقت ہماری کمزوریوں کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا اور ہماری اولاد میں سے اگر کوئی بے دینی کی طرف چل پڑا ہے تو پیار سے محبت سے اُسے واپس لانے کی کوشش کریں۔اور دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے اس کو ضائع ہونے سے بچائیں۔گو ایسی ایک آدھ مثال ہی ملتی ہے لیکن ہم اپنا ایک بھی بچہ کیوں ضائع ہونے دیں۔بچوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ ہمیشہ جماعت اور خلافت سے وابستہ رہیں۔کیونکہ اب خلافت کی وابستگی کے ساتھ ہی آپکی زندگی اور بقا ہے ویسے بھی اپنی اولاد کے راعی ہیں آپ لوگ۔اور ہر راعی سے پوچھا جائے گا اس کی رعایا کے بارہ میں۔