سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 18

سبیل الرشاد جلد چهارم 18 مطابق ہی نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کا حکم فرمایا ہے۔پھر آپ نصیحت فرماتے ہیں جسے خاص طور پر انصار کی عمر کے لوگوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ کیونکہ زندگی کا ایک بڑا حصہ گزر چکا ہے اس لئے اب بہت زیادہ فکر کی ضرورت ہے، کوئی پتہ نہیں کس وقت بلا وا آ جائے۔آپ فرماتے ہیں ایک ذرہ بدی کا بھی قابلِ پاداش ہے۔اگر چھوٹی سے چھوٹی بدی بھی تم کرتے ہو تو اُس کی بھی سزا اُس پر مل سکتی ہے۔وقت تھوڑا ہے اور کار عمل نا پیدا۔بہت تھوڑ اوقت رہ گیا ہے اور کوئی پتہ نہیں عمر کتنی ہے اور کیا کام کرنے ہیں۔تیز قدم اٹھاؤ کہ شام نزدیک ہے جو کچھ پیش کرنا ہے وہ بار بار دیکھ لو ایسا نہ ہو کہ کچھ رہ جائے اور زیاں کاری کا موجب ہو۔یا سب گندی اور کھوٹی متاع ہو جو شاہی دربار میں پیش کرنے کے لائق نہ ہو یعنی سب کچھ ضائع نہ ہو جائے اور یہ جو تم پیش کر رہے ہو جو ہمارے اعمال ہیں یہ ایسے نہ ہوں کہ وہ اس قابل ہی نہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں پیش کئے جاسکیں۔بندہ اور خدا کا درست تعلق انصار اللہ کی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے حضرت مصلح موعودؓ جنہوں نے یہ تنظیم قائم فرمائی ، فرماتے ہیں کہ انصار اللہ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں سے گزر رہے ہیں اور یہ آخری حصہ وہ ہوتا ہے جب انسان دنیا کو چھوڑ کر اگلے جہان جانے کی فکر میں ہوتا ہے اور جب کوئی انسان اگلے جہان جار ہا ہو تو اسے اس وقت اپنے حساب کی صفائی کا بہت زیادہ خیال ہوتا ہے اور وہ ڈرتا ہے کہ کہیں وہ ایسی حالت میں اس دنیا سے کوچ نہ کر جائے کہ اس کا حساب گندا ہو، اس کے اعمال خراب ہوں اور اس کے پاس وہ زادِراہ نہ ہو جو اگلے جہان میں کام آنے والا ہے۔جب احمدیت کی غرض یہی ہے کہ بندہ اور خدا کا تعلق درست ہو جائے تو ایسی عمر میں اور عمر کے ایک ایسے حصہ میں اس کا جس قدر احساس ایک مومن کو ہونا چاہئے وہ کسی شخص سے مخفی نہیں ہوسکتا۔پھر انصار کواُن کے فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ آپکا نام انصار اللہ اسلئے رکھا گیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے آپ دین کی خدمت کی طرف توجہ کریں۔اور یہ تو مالی لحاظ سے بھی ہوتی ہے اور دینی لحاظ سے بھی ہوتی ہے۔دینی لحاظ سے بھی آپ لوگوں کا فرض ہے کہ عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں۔اور دین کا چر چا زیادہ سے زیادہ کریں۔تا کہ آپ کو دیکھ کر آپکی اولادوں میں بھی نیکی پیدا ہو جائے۔دین کا چرچا یہی ہے کہ تبلیغ کی طرف زیادہ توجہ دیں۔حضرت ابراہیم کی قرآن کریم میں یہی خوبی بیان کی گئی ہے کہ آپ اپنے اہل و عیال کو ہمیشہ نماز وغیرہ کی تلقین کرتے رہتے تھے۔یہی اصل خدمت آپ لوگوں کی ہے۔آپ خود بھی نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ کریں اور اپنی اولادوں کو بھی نماز اور ذکر الہی کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔جب تک جماعت میں یہ روح پیدار ہے اور لوگوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فرشتوں کا تعلق قائم رہے اور اپنے اپنے درجہ کے مطابق کلامِ الہی ان پر نازل ہوتار ہے اسی وقت تک جماعت زندہ رہتی ہے