سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 350
350 سبیل الرشاد جلد چہارم ووٹ دیا جائے۔یا فلاں میرا عزیز ہے تو اُسے ووٹ دیا جائے۔یا فلاں میرا برادری میں سے ہے، شیخ ہے، جٹ ہے، چوہدری ہے، سید ہے، پٹھان ہے، راجپوت ہے، اس لئے اُس کو ووٹ دیا جائے۔کوئی ذات پات عہد یدار منتخب کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ جواب طلبی صرف عہد یدار کی نہیں کرتا کہ کیوں تم نے صحیح کام نہیں کیا۔بلکہ ووٹ دینے والے بھی پوچھے جائیں گے کہ کیوں تم نے رائے دہی کا اپنا حق صحیح طور پر استعمال نہیں کیا۔ووٹ ڈالنے سے قبل دعا کریں اللہ تعالیٰ نے آیت کے آخر میں یہ فرمایا کہ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا۔کہ اللہ تعالیٰ بہت سننے والا اور گہری نظر رکھنے والا ہے۔یہ ووٹ ڈالنے والوں کے لئے بھی ہے کہ اگر تمہیں کسی کے بارے میں صحیح معلومات نہیں تو خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ اے خدا! تیری نظر میں جو بہترین ہے، اُسے ووٹ ڈالنے کی مجھے تو فیق عطا فرما۔اور نیک نیتی سے کی گئی اس دعا کو خدا تعالیٰ جو سمیع و بصیر ہے، وہ سنتا ہے۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بصیر بھی ہے۔اُس کی تمہارے عملوں پر گہری نظر ہے۔خدا تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔وہ دلوں کی پاتال تک سے واقف ہے۔پس جب مومنین کی جماعت خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہوئے عہد یدار منتخب کرتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ مومنین کا مددگار بھی ہو جاتا ہے۔جماعتی نظام میں تو ہماری یہ روایت ہے کہ ہر کام سے پہلے ہم دعا کرتے ہیں، دعا سے کام شروع کرتے ہیں۔انتخابات سے پہلے بھی دعا کروائی جاتی ہے۔اگر خالص ہو کر اللہ تعالیٰ سے رہنمائی لیتے ہوئے انتخابات کی کارروائی کی جائے تو اللہ تعالیٰ پھر اپنے فضلوں اور برکتوں سے نوازتا ہے۔کثرت رائے کا احترام کرنا چاہئے پس ہر ووٹ دینے والا اپنے ووٹ کی، اپنے رائے دہی کے حق کی اہمیت کو سمجھے۔ہر قسم کے ذاتی رجحانات یا ذاتی پسندوں اور ذاتی تعلقات سے بالا ہو کر جس کام کے لئے کسی کو منتخب کرنا چاہتے ہیں ، اُس کے حق میں اپنی رائے دیں۔پرانے احمدی تو جانتے ہیں، نئے آنے والوں پر بھی واضح ہونا چاہئے ، نو جوانوں پر بھی واضح ہونا چاہئے کہ انتخابات میں رائے دی جاتی ہے۔حتمی فیصلہ خلیفہ وقت کی طرف سے ہوتا ہے۔بعض دفعہ کسی کے حق میں کثرت کے باوجود بعض وجوہات کی بنا پر دوسرے کو ( عہد یدار ) بنا دیا جاتا ہے۔یہ بھی واضح ہو کہ بعض مقامی عہدیداروں کے انتخابات کی حتمی منظوری اگر ملکی امیر دیتا ہے تو اُسے قواعد اس کی اجازت دیتے ہیں۔کثرتِ رائے سے اختلاف کا وہ حق رکھتا ہے لیکن امراء کو کثرتِ رائے کا عموماً احترام کرنا چاہئے اور یہ بات نوٹ کر لیں ، خاص طور پر انگلستان اور یورپ کے ممالک اور امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا کے ممالک کہ مقامی انتخابات میں قواعد نیشنل امیر کو اجازت دیتے ہیں کہ اگر وہ تبدیلی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔