سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 17
سبیل الرشاد جلد چہارم 17 اللہ کے انصار ہیں پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے انکار کر دیا پس ہم نے اُن لوگوں کی جو ایمان لائے اُن کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو وہ غالب آگئے۔" (الصف: 15) تو جب مسیح محمدی کو مان کر ، اس پر ایمان لا کر ہم انصار اللہ میں شامل ہو چکے ہیں تو پھر اس تعلیم پر بھی عمل کرنا ہوگا۔اور اُن باتوں کو بھی ماننا ہو گا جن کا تقاضا اور مطالبہ ہم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق دشمنوں پر ہمیں جلد غلبہ عطا ہو۔حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں کہ "تمام کامیابی ہماری معاشرت اور آخرت کے تعاون پر ہی موقوف ہو رہی ہے۔کیا کوئی اکیلا انسان کسی کام دین یا دنیا کو انجام دے سکتا ہے، ہر گز نہیں۔کوئی کام دینی ہو یا د نیوی بغیر معاونت با ہمی کے چل ہی نہیں سکتا۔ہر ایک گروہ کہ جس کامدعا اور مقصد ایک ہی مثل اعضائے یک دیگر ہے اور ممکن نہیں۔جو کوئی فعل جو متعلق غرض مشترک اس گروہ کے ہے بغیر معاونت با ہمی ان کی کے بخوبی و خوش اسلوبی ہو سکے۔بالخصوص جس قدر جلیل القدر کام ہیں اور جن کی علت غائی کوئی فائدہ عظیمہ جمہوری ہے وہ تو بجز جمہوری اعانت کے کسی طور پر انجام پذیر ہی نہیں ہو سکتے اور صرف ایک ہی شخص ان کا متحمل ہرگز نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا۔انبیاء علیہم السلام جو تو کل اور تفویض اور تحمل اور مجاہدات افعال خیر میں سب سے بڑھ کر ہیں ان کو بھی بہ رعایت اسباب ظاہری مَنْ أَنْصَارِي إِلَی اللہ کہنا پڑا۔خدا نے بھی اپنے قانون تشریعی میں یہ تصدیق اپنے قانون قدرت کے تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى كا حکم فرمایا " تبلیغ رسالت، مجموعه اشتہارات۔جلد اوّل صفحہ ۶۲) تو اس اقتباس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام واضح طور پر فرمارہے ہیں کہ ہماری تمام کامیابیاں چاہے وہ دنیا وی ہوں یا دینی ہوں بغیر آپس کے تعاون کے حاصل نہیں ہوسکتیں کیونکہ اکیلا انسان سارے کام نہیں کر سکتا۔اس لئے تمام وہ لوگ جو ایک مقصد کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں، ایک گروہ کی شکل میں ہیں، ایک جماعت ہیں ایک ہو کر آپس کے تعاون سے کام کریں گے تو تمام امور خوش اسلوبی سے طے پائیں گے اور کامیابیاں تمہارے قدم چومیں گی۔کیونکہ جس قدر بڑا کام ہو، جتنا بڑا مقصد ہو اس کے نتائج تم بغیر ا کٹھے ہوئے ، بغیر ایک ٹیم ورک کے اور ایک دوسرے کی مدد کے حاصل ہی نہیں کر سکتے۔فرمایا کہ یہاں تک کہ انبیاء بھی جن میں برداشت بھی ہوتی اور انہوں نے مجاہدات بھی کئے ہوتے ہیں ان کا تو کل اللہ تعالیٰ کی ذات پر بہت بڑھا ہوا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اُن کو اس کام کے لئے مامور کر رہا ہوتا مقرر فرمارہا ہوتا ہے پھر بھی ان کو ظاہری اسباب کی ضرورت ہوتی ہے۔تو اس لئے ان کو کہنا پڑتا ہے کہ کون اللہ تعالیٰ کی طرف دیئے گئے ان کاموں میں میرے مددگار ہوں گے اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قانون شریعت میں قانون قدرت کے