سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 334
334 سبیل الرشاد جلد چہارم اس بزرگ امام سے سنتا ہوں اس جیسا کلام میں نے پہلے کبھی نہیں سنا ہو گا۔ایسے لگتا ہے جیسے میں اُسے پیتا جا رہا ہوں۔در حقیقت میرا دل سن اور دیکھ رہا ہوتا ہے اور سیراب ہوتا ہے حتی کہ میری آنکھیں آنسوؤں سے امڈ آتی ہیں اور وہ الفاظ میرے نفس، روح، عقل اور دل پر گہرا اثر کرتے ہیں اور میرے جسم کے ہر ذرے میں رچ بس جاتے ہیں۔جب میں بیدار ہوتا ہوں تو انہیں یاد کر کے لکھنا چاہتا ہوں، جو یہ الفاظ تھے۔آثَرْتُ الجَمَالَ عَلَى الْجَمَالِ أَنْتَ رُوْحِيْ وَرَاحَتِي تَعَالَ حَبِيْبِي یہ اس پیارے شخص کے لمبے قصیدے سے چند جملے مجھے یادر ہے۔مجھے خیال گزرا کہ شاید وہ بزرگ حضرت علی ہیں۔پھر خیال آیا کہ جو پگڑی اس بزرگ نے پہنی ہوئی تھی وہ غیر معروف تھی اور پگڑی کے اوپر والا طرہ غیر معروف تھا۔یعنی اس کی گردن دائیں طرف کو جھکی ہوئی تھی اور اُن کے الفاظ بہت خوبصورت اور اس طرح محبت سے معمور تھے کہ میں کبھی اُن کو بھلا نہیں سکتا۔بہر حال اس خواب کے قریباً ایک ہفتے کے بعد میں ایک دن ٹی وی پر مختلف چینل تلاش کر رہا تھا کہ اچانک آٹو میٹک سرچ پر لگا کر نے چینل کی تلاش کی تو اچانک مجھے ٹی وی سے آواز آئی کہ لَقَدْ أُرْسِلْتُ مِنْ رَّبِّ كَرِيمٍ رَحِيْمِ عِنْدَ طُوْفَانِ الضَّلَالَ (یعنی میں رب کریم ورحیم کی طرف سے ضلالت کے اس طوفان کے زمانے میں بھیجا گیا ہوں )۔اس پر مجھے بڑا جھٹکا لگا اور میں جلدی سے ٹی وی کی طرف لپکا اور ایک چینل پر ایک شخص کی تصویر دیکھی جس کے نیچے لکھا تھا الْإِمَامِ الْمَهْدِى وَالْمَسِيحِ الْمَوْعُود اور مندرجہ بالا الفاظ پڑھے جارہے تھے۔یہ دیکھ کر میں اپنے جذبات پر کنٹرول کھو بیٹھا اور اونچی آواز سے رونے لگا۔خدا کی قسم ! میں ہفتہ بھر روتا رہا اور جب بھی وہ تصویر ٹی وی پر آتی یا وہ اشعار سنتا تو اپنے گزشتہ گناہوں کی وجہ سے سر پیٹنے لگتا۔اب دن رات میر اشغل ایم ٹی اے کا دیکھنا ہو گیا جیسے کسی کو فائنل میچ کا انتظار ہوتا ہے۔اور رونے کے آثار میرے منہ پر واضح ہوتے۔یتی کہ بعض لوگ مجھ سے پوچھنے لگتے کہ کیا تم رو کر آئے ہو؟ انہوں نے مجھے لکھا کہ کئی دفعہ خواب میں میں نے آپ کو بھی دیکھا۔تو بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر اُس کو نظر آئی۔تو یہ چند واقعات جومیں نے آپ کے سامنے پیش کئے ہیں۔یہ جہاں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق ہونے پر یقین کامل پیدا کرتے ہیں، وہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تسبیح تحمید اور استغفار کی طرف بھی زیادہ سے زیادہ توجہ پھیرنے والے ہونے چاہئیں۔یہ سن کر صرف الحمد للہ اور ماشاء اللہ پڑھنا کافی نہیں ہوگا۔یا صرف عارضی طور پر محفوظ ہونا ہی کافی نہیں ہوگا۔جہاں ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اُس کی تسبیح کرتے ہوئے ، اُس کی حمد کرتے