سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 313 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 313

سبیل الرشاد جلد چہارم 313 یہ انصار کا بھی کام ہے کہ وہ اپنے نمونے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ خلق کے مطابق کریں 5 فروری 2012ء کو بنگلہ دیش کے جلسہ سالانہ پر ایم ٹی اے مواصلاتی رابطوں کے ذریعہ براہ راست حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔اسی طرح بے شمار خلق ہیں جو آپ میں پائے جاتے ہیں، وقت کی کمی کی وجہ سے بیان نہیں ہو سکتے۔کوئی خُلق بھی لے لیں۔اُس میں آپ کا اسوہ آسمانوں کو چھوتا ہوا نظر آئے گا۔کیا آج کل کے دین کے نام نہاد علماء یا دوسروں پر کفر کے فتوے لگانے والوں میں یہ اخلاق ہیں ؟ ان لوگوں سے تو ہمسائے بھی محفوظ نہیں۔جماعت احمدیہ کے افراد تو آئے دن بعض ملکوں میں اس کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ اُن کے ہمسائے انہیں کس طرح ان تکلیفوں میں مبتلا کر رہے ہیں۔بنگلہ دیش میں بھی یہ صورتحال ہے اور وہاں لوگوں کو اس کا تجربہ ہے۔بہر حال یہ تو اُن کے عمل ہیں جو بگڑی ہوئی قوم ہیں۔وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے زیر اثر پورے ماحول کو ہی گندہ کر دیا ہے۔لیکن ہم جو مسیح محمدی کو ماننے والا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ہمیں اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو پہلے سے بڑھ کر اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ دنیا کو بتاسکیں کہ آج ہم حُبّ پیمبری کا صرف نعرہ لگانے والے نہیں ہیں، بلکہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والے بھی ہم ہی ہیں۔دنیا کو بتائیں کہ یہ اعلیٰ اخلاق اور اسوہ رسول پر چلنے کا ادراک ہمیں زمانے کے امام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق نے دیا ہے۔پس آؤ اور اس غلام صادق کے دامن سے جُڑ جاؤ تا کہ دنیا اور آخرت سنوار نے والے بن سکو۔یہ بنگلہ دیش کے رہنے والے نوجوانوں کا بھی کام ہے، انصار کا بھی کام ہے اور خواتین کا بھی کام ہے کہ اپنے نمونے اس اعلیٰ خلق پر قائم کرنے کی کوشش کریں جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے قائم فرمایا۔پورے جماعتی نظام کو ایک مہم کی صورت میں پہلے اپنی اصلاح کرنے اور پھر اس پیغام کو ملک کے کونے کونے میں ہر شخص تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔اپنے ہم وطنوں پر ثابت کر دیں کہ آج ہم ہی سب سے زیادہ حضرت خاتم الانبیاء حمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے ہیں۔یہی وہ پیغام ہے جس کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے تھے۔پس آگے بڑھیں اور اس زمانے کے امام کو ماننے کا حق ادا کریں۔مصلحتوں اور سوچوں میں نہ پڑ جائیں۔دشمن جو احمدیت کو ختم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا آخری زور لگا رہا ہے یہ تو انشاء اللہ تعالیٰ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔یہ آخری زور ہے اور اس کے بعد انشاء اللہ تعالٰی اس کی موت ہے۔احمدیت کا پھیلنا الہی تقدیر ہے۔یہ لوگوں کے منصوبے سے بھی ختم نہیں ہو سکتا۔لیکن اگر آپ نے اس تقدیر کا حصہ بنا ہے تو اپنے