سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 325 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 325

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 305 اسی طرح بعض لوگ انتخابات جب ہوتے ہیں تو اگر اپنے آپ کو ووٹ نہیں بھی دیتے اس مجبوری کی وجہ سے کہ جماعت کے قواعد اجازت نہیں دیتے تو پھر وہ اپنا ووٹ استعمال بھی نہیں کرتے۔ اپنے ووٹ کو استعمال نہ کرنا بھی اس بات پر محمول کیا جاتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ میں اس بات کا اہل ہوں۔ گو کہ قواعد کی رو سے میں ووٹ تو نہیں دے سکتا لیکن کوئی دوسرا شخص میرے سے زیادہ اس بات کا اہل نہیں ہے اس لئے میں ووٹ استعمال نہیں کرتا۔ تو اس بات سے بھی بچنا چاہیے، یہ بھی تربیت کے لئے بہت ضروری چیزیں ہیں۔ اگر کسی میں کسی بھی قسم کی صلاحیت ہے تو اس صلاحیت کا اظہار چاہے وہ پیشہ وارانہ ہو یا اور علمی نوعیت کی ہو یا کسی بھی قسم کی ہو تو اس صلاحیت کا اظہار عہدیداران کی یا دوسرے کی مدد کر کے کیا جا سکتا ہے، بغیر عہدے کے بھی خدمت کی جا سکتی ہے۔ اگر تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے خدمت کرنی ہے تو پھر عہدے کی خواہش تو کوئی چیز نہیں ہے پس اس بات کو ہر احمدی کو، نئے آنے والوں کو بھی ، نوجوانوں کو بھی، اور پرانوں کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض پرانے احمدی بھی بعض دفعہ اس زعم میں کہ ہم زیادہ تجربہ کار ہیں ، زیادتی کر جاتے ہیں ایسے عہدیداروں کو بھی خیال رکھنا چاہیے، عہدیداروں میں خاص طور پر بے نفسی ہونی چاہیے ، نام کی بے نفسی نہیں بلکہ حقیقی بے نفسی۔ عہدیداران کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ہمیشہ سامنے رکھنے چاہئیں کہ عہدیدار قوم کا خادم ہے۔ پھر ایک موقع پر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو مخاطب کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عہدہ ایک امانت ہے اور انسان بہر حال کمزور ہے۔ یہ امانت ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی اور انسان کمزور ہے اگر امانت کا حق ادا نہیں کروگے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پوچھے جاؤ گے۔(صحیح مسلم كتاب الامارة باب كرامة الامارة بغير ضرورة حدیث 4719) پس اس امانت کا حق ادا کرنے کے لئے انتہائی عاجزی سے اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ اس خدمت کو ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پہلی بات تو یہ فرمائی کہ عہدیدار قوم کا خادم ہوتا ہے، خدمت کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ ، ہر معاملے میں ، ہر قدم پر ، ہر لمحہ پر دعا