سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 310
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 290 چاہیے۔ پس اپنے ایمان کو کامل کرنے کی ضرورت ہے ، اپنے وعدہ کو پورا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے وارث بن سکیں۔ پھر مومن کو اگر ابتلاء آئے تو منہ نہیں پھیر لیتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابتلاء میں بھی مومن وہ ہیں جو کامل اطاعت اور فرمانبرداری سے حصہ لینے والے ہیں۔ یہ نہیں کہ جب بھلائی پہنچے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اپنے ایمان کے دعوے بڑھ بڑھ کر کرنے لگ جاتے ہیں۔ پس دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے ، انصار ہونے کا حق ادا کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنے جائزے لیتے رہیں، اپنی حالتوں کے جائزے لیتے رہیں ، اپنے گھروں میں اپنی اولا دوں کے جائزے لیتے رہیں، اپنی بیوی بچوں کی طرف توجہ دیں، دنیا کمانا اور دنیا میں آکر دنیا میں غرق ہو جانا تو کام نہیں اور پھر دعو دعویٰ یہ کرنا کہ ہم انصارا صار اللہ ہیں۔ پس یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جو اس زمانے میں آپ پر ڈالی گئی ہے اور آپ نے وعدہ کیا ہے کہ ہم اس ذمہ داری کو نبھائیں گے۔ تمہاری اولادیں اور تمہارے مال تمہارے لئے ابتلاء نہ بن جائیں بڑی عمر میں انسان آتا ہے تو انصار میں داخل ہوتا ہے۔ اس کی دو صفیں بنائی گئی ہیں ، صف اول اور صف دوم۔ لیکن بڑی عمر میں جس طرح عمر بڑھتی چلی جاتی ہے انسان کی طبیعت میں نرمی بھی آجاتی ہے اور اس نرمی کی وجہ سے کمزوری آجاتی ہے اور ایسی حالت میں پھر بعض دفعہ اولاد ابتلا بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہاری اولاد اس عمر میں ابتلا نہیں بننی چاہیے۔ اس طرح دنیا کمانے کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔ دنیا کمانے کا بہترین حصہ جو تجربہ کے لحاظ سے بھی ہے اور ویسے بھی ہے۔ وہ تو انصار اللہ کی عمر کا ہے۔ اگر اس کا جائزہ لیں تو جتنی عمر خدام الاحمدیہ کے کمانے کی ہے، اگر ایک خادم صحیح عمر پہ کام پر لگ جاتا ہے تو وہ پچیس سال ہے لیکن تجربہ کے لحاظ سے اور کمانے کے معراج تک پہنچنے کے لحاظ سے چالیس سال سے لے کر پینسٹھ سال تک انصار اللہ کی عمر اس سے زیادہ بنتی ہے جب وہ پیشے کے لحاظ سے بھی اوپر پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اپنی تنخواہ کے لحاظ سے بھی جو اس کی سکسیلنگ (scaling) ہوتی ہے اس تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔ کام کے لحاظ سے بھی اور عمر کے لحاظ سے بھی انصار اللہ کی عمر ایسی ہے جو بہر حال جس طرف بھی اس کو لے کر جاتی ہے، جوں جوں اس کا تجربہ