سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 298
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 278 طرف اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں لے جانا چاہتے ہیں اور ہمیں وہ مقام دلوانا چاہتے ہیں۔ مدینہ کے انصار کی قربانیاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اسلام میں انصار کا لفظ استعمال ہوا ان لوگوں کے لئے جو مدینہ کے رہنے والے تھے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ گئے تو وہ انصار تھے جنہوں نے آپ کو خوش آمدید کہا اور آپؐ کے ساتھ جانے والے مہاجرین بھی شامل تھے۔ قربانیوں کے ان کے معیار کیا تھے ، عبادتوں کے ان کے معیار کیا تھے، تاریخ اس سے بھری پڑی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد نہیں بلکہ جو دوسرے ان کے بھائی تھے ، جو مہاجرین ہجرت کر کے آئے تھے ان کے بھی حق ادا کئے۔ کہاں تک حق ادا کئے۔ وہ غریب جو لٹے پٹے آئے تھے ان کو اپنی جائیدادوں کا حصہ دار بنا دیا۔ لیکن مہاجرین کا بھی اپنا مقام تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری مدد چاہتے ہیں، جائیدادیں نہیں لینا چاہتے۔ پھر بعض انصار نے تو یہ قربانیاں دیں کہ اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق دینے پر تیار ہو گئے کہ تم اس سے شادی کر لو۔ تمہاری بیوی نہیں ہے۔ تو ان کے قربانیوں کے معیار بلند تھے اور اس کو بلند تر کرتے چلا جانا چاہتے تھے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پس پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک احمدی کو اپنے ان معیاروں کو بھی دیکھنا چاہیے کہ اس میں کس حد تک اپنے بھائیوں کے لئے قربانی کا جذبہ ہے۔ صرف اپنے نفس کا خیال نہ ہو بلکہ دوسروں کا بھی خیال ہو ، صرف اپنی ہی نہ پڑی رہے بلکہ دوسرے کا بھی خیال رکھنے والے ہوں۔ اور آپس میں جب ایک دوسرے کے خیال رکھنے کا احساس پیدا ہو گا تو پھر رُحَمَاء بَيْنَهُمْ (الفتح:30) کی کیفیت بھی سامنے آئے گی، آپس میں محبت اور پیار بڑھے گا، جماعت میں یکسانیت پید ہو گی ، یگانگت پیدا ہو گی ، محبت پیدا ہو گی، بھائی چارہ پیدا ہو گا اور پھر جب یہ چیز ہو گی تو جہاں آپ کا اپنا تعلق خدا تعالی سے بڑھے گا وہاں اس ایک ہونے کی وجہ سے جماعت میں مضبوطی پیدا ہو گی اور خلافت میں مضبوطی پیدا ہو گی اور پھر جماعت کا ترقی کی طرف قدم بڑھے گا۔