سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 297 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 297

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول اللہ تعالیٰ کی وحدانیت دنیا میں قائم کریں 277 خدا تعالیٰ انبیاء کو دنیا میں اصلاح کے لئے بھیجتا ہے۔ خدا تعالیٰ انبیاء کو اپنی وحدانیت قائم کرنے کے لئے بھیجتا ہے، خدا تعالیٰ انبیاء کو دنیا میں انسانوں کو اپنے قریب لانے کے لئے بھیجتا ہے۔ پس اگر انبیاء کے سپرد یہ کام ہے تو یہی کام جب انصار اللہ کے سپر د ہوتا ہے، انبیاء کے مدد گاروں کے سپر د ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت دنیا میں قائم کریں اور وہ اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک خود اپنے دلوں میں قائم نہ ہو۔ جب تک خود وہ اُسوہ رسول پر چلنے والے نہ ہوں ، ان کے عمل اس وقت تک بارآور نہیں ہو سکتے جب تک خود ان کے ہر قول و فعل میں یکسانیت نہ پائی جاتی ہو۔ تبلیغ اس وقت تک بارآور نہیں ہو سکتی جب تک ان کے قول و فعل میں یکسانیت نہ پائی جاتی ہو۔ پس یہ چیزیں ہیں، یہ حکمت ہے جو اللہ تعالیٰ پیدا کرنے کے لئے انبیاء کو کہتا ہے کہ لوگوں کو بلاؤ تا کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا قرب عطا کرے، ان کو بخشے اور ان کو اس دنیا میں بھی اپنے پیار سے نوازے اور آخرت میں بھی ان کے درجات بلند کرے۔ تقویٰ میں ترقی کریں پس انصار اللہ کا یہ کام ہے کہ نیکیوں میں بڑھیں۔ اپنا تعلق خدا تعالیٰ سے پیدا کریں۔ تقویٰ میں ترقی کریں اور صرف انصار ہی نہیں ہر شخص، ہر ، ہر احمدی جس نے یہ عہد کیا ہے نوجوان بھی بیٹھے ہوئے ہیں میرے سامنے اور وہ بھی میرے مخاطب ہیں اور یہی چیز ہے جو اس زمانہ میں اپنے عہدوں کا پورا کرنے والی ہر ایک کو بنائے گی یہی چیز ہے جو انصار اللہ بننے کی طرف نئے نئے راستے آپ کو دکھائے گی کہ انصار اللہ چیز کیا ہے اور کس طرح ہم نے اپنے معیار اونچے کرتے چلے جانا ہے کیونکہ بغیر نیکی اور تقویٰ کے ہم حقیقی انصار کہلانے والے نہیں ہو سکتے۔ پس ہمیشہ جب آپ یہ چیز اپنے سامنے رکھیں گے کہ انصار اللہ ہمارانا ہمارا نام رکھا گیا ہے تو اس کی طرف ہم نے توجہ کرنی ہے۔ اپنے اعمال کے جائزے لیں گے ، اپنی عبادتوں کے جائزے لیں گے، اپنے اخلاق کے جائزے لیں گے تبھی اس مقام کو حاصل کرنے والے بنیں گے جس کی