سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 296 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 296

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 276 کہنے میں بھی ایک شان ہوتی ہے۔ وہ دنیا کو رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں۔ جو دعا کا ایک شعبہ ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ پر ان کو کامل ایمان اور اس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کرانا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (المومن : 52) یقینی اور حتمی وعدہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ : ”میں کہتا ہوں کہ بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مدد کا خیال نہ ڈالے تو کوئی کیونکر مدد کر سکے۔“ پس یہاں یہ فرمایا کہ نبیوں کو مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ خود مدد کر سکتا ہے اور ان نبیوں کو پورا یقین بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب ان کو کھڑا کیا ہے تو ضرور مدد بھی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں اور میر ارسول غالب آئیں گے ۔ تو جب غالب آئیں گے یہ تو نہیں فرمایا کہ فلاں فلاں مدد کرے گا تو غالب آئیں گے ۔ اللہ نے اپنی مدد کے ساتھ یہ اعلان کروایا ہے کہ میں یہ اعلان کر دوں کہ میں اور میر ارسول غالب آئیں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی یہ الہام ہوا اور کئی دفعہ ہوا۔ تو انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت نے ہی پھیلنا ہے اور اسلام نے ہی پھیلنا ہے۔ اور یہ غلبہ تو ہونا ہے۔ لیکن خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جو انصار اللہ کا حق ادا کرنے والے ہوں گے جو اس غلبہ میں شامل ہو جائیں گے۔ فرمایا نبی اگر مدد کے لئے کہتے ہیں تو تمہارے بھلے کے لئے کہتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں مدد کے لئے بلاتا ہے تو تمہارے بھلے کے لئے ہوتا ہے۔ پس اس بات کا ہمیشہ خیال رکھو۔ پھر آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ اشاعت دین میں مامور من اللہ دوسروں سے مدد چاہتے ہیں۔ یہ مدد کیوں چاہتے ہیں۔ اس لئے چاہتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت دلوں میں پیدا ہو جائے۔ انبیاء کا فرض ہے کہ لوگوں کی اصلاح ہو ، ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو ، ان کے دلوں میں خشیت پیدا ہو۔ خدا تعالیٰ کی عظمت پید اہو اور وہ ، وہ کام کریں جو خداتعالیٰ انبیاء سے چاہتا ہے کہ وہ بھی کریں۔