سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 295

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 275 عہدیدار ۔۔۔ ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسی طرح عہدیدار جب وہ منتخب ہو جاتے ہیں تو ان کا کام یہ ہے کہ آپ ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کریں۔ اگر ایسا کریں گے تو تبھی آپ وفادار کہلائیں گے۔ تبھی آپ خالص مدد گار کہلائیں گے۔ صرف انصار اللہ کا نعرہ لگا دینا یا انصار اللہ کا لیبل اپنے ساتھ لگا لینا یا نَحْنُ أَنْصَادُ اللہ کہہ دینا کافی نہیں ہو گا۔ پس ان باتوں کا خاص طور پر خیال رکھیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جہاں تک اللہ تعالیٰ کا سوال ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تو مدد کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ جو سب قدرتوں کا مالک ہے وہ بغیر کسی کی مدد کے بھی خود براہ راست مدد کر سکتا ہے۔ لیکن یہ ایک اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ بندوں کو دے رہا ہے کہ کون ہے تم میں سے جو وفادار ہو کر، جو سچا ہو کر ، جو پوری طرح تیار ہو کر، دنیا کی تمام خواہشوں کو دور رکھتے ہوئے، خالص ہو کر میرے دین کی مدد کے لئے آئے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اس بارہ میں وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ” شریعت نے اسباب کو منع نہیں کیا ہے۔ شریعت نے جو بھی ذرائع ، وسائل ہیں ان سے منع نہیں کیا۔ ان کو ضرور استعمال کرنا چاہیے۔ اور فرمایا: ”سچ پوچھو تو کیا دعا اسباب میں نہیں ہے؟ دعا بھی تو سبب بنایا ہے نا۔ کسی چیز کو حاصل کرنے کے لئے کیا دعا اسباب نہیں۔ تلاش اسباب بجائے خود ایک دعا ہے۔ جب انسان کسی ذریعہ کی تلاش کرتا ہے تو وہ بھی ایک دعا بن جاتی ہے۔ اور پھر فرمایا کہ : ” دعا بجائے خود عظیم الشان اس اسباب کا ایک چشمہ ہے“۔ دعا بہت بڑا سبب اور ذریعہ ہے۔ دو پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس بات کو وضاحت سے دنیا پر کھول دینے کے لئے انبیاء علیہم السلام کا ایک سلسلہ دنیا میں قائم کیا۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا اور قادر ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی قسم کی امداد کی ضرورت ان رسولوں کو باقی نہ رہنے دے مگر پھر بھی ایک وقت ان پر آتا ہے کہ وہ مَنْ أَنْصَارِی کی اللہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کے مَنْ أَنْصَارِی إِلَی اللهِ