سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 275 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 275

سبیل الرشاد جلد چہارم 275 نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ کا قرآن میں ذکر اور اس کا فلسفہ نَحْنُ أَنْصَارُ الله کا نعرہ کیوں لگایا گیا تھا۔قرآن کریم میں ہمیں دو جگہ اس کا ذکر ملتا ہے، ایک سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ امَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران : 53) پس جب عیسی نے ان میں انکار کا رجحان محسوس کیا تو کہا کہ کون اللہ کی طرف بلانے میں میرے انصار ہوں گے تو حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے انصار ہیں۔ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں اور تو گواہ بن جا کہ ہم فرمانبردار ہیں۔جیسا کہ آیت سے ظاہر ہے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام نے یہ دیکھا کہ انکار اور کفر میں یہ لوگ بڑھتے چلے جارہے ہیں تو پھر آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کے دین کے لئے پکار رہا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں۔تمہاری بقا اسی میں ہے کہ مجھے قبول کرو اور اللہ کی پہچان کرو اور اس کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرو۔آگے بڑھو اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس دین کو اختیار کرو۔اور پھر ان میں سے جو چند حواری تھے وہ آگے آئے اور انہوں نے جب نَحْنُ اَنْصَارُ اللَّهِ کہا تو یہ دعا بھی کی کہ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّهِدِينَ (آل عمران:54 ) کہ اے ہمارے رب! جو کچھ تو نے اُتارا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور ہم اس رسول کے متبع ہو گئے ہیں۔پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔رسول کی اتباع کیا ہے؟ اس سے کئے گئے عہد کو پورا کرنا ، اس کی لائی ہوئی تعلیم پر عمل کرنے کی بھر پور کوشش کرنا، اس تعلیم کی سچائی پر کامل ایمان ہونا۔اور پھر ہم دیکھتے ہیں اس کا دوسرا ذ کر سورۃ الصف میں ملتا ہے۔یہاں فرمایا کہ: يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيْنَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ فَامَنَتْ طَائِفَةٌ مِّنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَتْ طَائِفَةٌ فَأَيَّدْنَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِين۔(الصف: 15) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کے انصار بن جاؤ، جیسا کہ عیسی بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کہ کون ہے جو اللہ کی طرف رہنمائی کرنے میں میرے انصار ہوں۔حواریوں نے کہا ہم اللہ کے انصار ہیں۔پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے انکار کر دیا۔پس ہم نے ان لوگوں کی جو ایمان لائے ان کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو وہ غالب آگئے۔پس غلبہ ایمان لانے والوں کا ہوا اور یہی ان کا مقدر ہوتا ہے اور یہی الہی جماعتوں کا مقدر ہے۔جو ایمان لاتے ہیں وہی غلبہ حاصل کرتے ہیں۔یہاں حضرت عیسی کے حواریوں کی مثال دے کر ہمیں یہ توجہ دلائی ہے کہ اے مسلمانو ! اللہ تعالیٰ کے انصار بن جاؤ۔جب مسیح موعود کا دعوی ہو تو تم بھی ایمان لانے والے گروہ میں شامل ہو جانا، انکار کرنے والے گروہ میں شامل نہ ہونا۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ آج ہمیں