سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 274 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 274

274 سبیل الرشاد جلد چہارم خیانت سے بچنا، فساد اور بغاوت سے بچنا، نفسانی جوش کو دبانا، پانچ وقت نمازوں کی ادائیگی کرنا، تہجد کی ادا ئیگی کی طرف توجہ دینا، استغفار دعاؤں اور درود کی طرف توجہ دینا، تسبیح و تحمید کرنا تنگی اور آسائش ہر حالت میں خدا تعالیٰ سے وفا کرنا، قرآن شریف کے احکامات پر عمل کرنا، تکبر نخوت سے پر ہیز کرنا، عاجزی اور خوش خلقی کا اظہار کرنا ، ہمدری خلق کا جذبہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے اندر پیدا کرنا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کامل اطاعت کا جوا اپنی گردن پر ڈالنا۔یہ ہے خلاصہ شرائط بیعت کا۔پس اگر غور کریں تو یہ باتیں ایک انسان میں تقویٰ میں ترقی کا باعث بنتی ہیں۔اور یہ کم از کم معیار ہے جس کی ایک احمدی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توقع فرمائی ہے۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا یہی مقصد تھا کہ ایک انسان میں یہ چیزیں پیدا کی جائیں اور انسان آپ کی بیعت میں آکر تقویٰ میں ترقی کرے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ " خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے مامور کیا ہے کہ تقویٰ پیدا ہو اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان جو گناہ سے بچاتا ہے پیدا ہو۔خدا تعالی تاوان نہیں چاہتا بلکہ سچا تقویٰ چاہتا ہے" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 100 مطبوعہ ربوہ) تقوی میں ترقی کر کے آئندہ نسلوں کے لئے پاک نمونہ قائم کرنے والا بنیں پس یہ تقویٰ ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔تقویٰ وہ ہے جو دل کی آواز ہو، جو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے دل سے اٹھنے والی آواز ہو۔یہ عبادتیں، شرک سے پر ہیز یا ان باتوں پر عمل جو انسان کے اعلیٰ اخلاق کا اظہار ہیں یہ سب کسی قسم کی چٹی، جرمانہ یا تاوان سمجھ کر نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ سے پیار کے تعلق کی وجہ سے ہو۔ایمان کا وہ مقام ہو جس کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ آمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (البقرۃ: 166 ) اور جولوگ ایمان لانے والے ہیں ان کی محبت سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ہی ہوتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ سے محبت میں ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ ایمان میں ترقی کرتے ہیں اور ایمان میں ترقی تقویٰ میں ترقی کا باعث بنتی ہے۔پس ہمارے انصار اللہ کی بھی اور ہماری لجنہ اماءاللہ کی بھی یہ ایک ذمہ داری ہے کہ تقویٰ میں ترقی کر کے ہم آئندہ نسلوں کے لئے وہ پاک نمونہ قائم کرنے والے بن جائیں جو ہماری نسلوں کی روحانی زندگی اور روحانی ترقی کی ضمانت بن جائے۔عورت اور مرد ہر ایک پر اپنے اپنے دائرے میں بعض فرائض اور ذمہ داریاں ہیں جن کا پورا کرنا دونوں کا فرض ہے اور اس کے لئے لائحہ عمل، اس کے لئے ایک گائیڈ لائن ( Guideline) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شرائط بیعت کی صورت میں ہمارے سامنے رکھ دی ہے، اس پر ہر وقت غور ہونا چاہئے۔اس کا خلاصہ میں نے بیان کر دیا ہے۔