سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 273
273 سبیل الرشاد جلد چہارم جماعت سے اپنی نسلوں کو جوڑے رکھنے کے لئے بھی فکر ہونی چاہیے۔دنیاوی بہتری کے سامان کرنے کے لئے ، بچوں کے لئے جائیداد، مکان ، بہتر تعلیم یا کام کی ان کو فکر ہوتی ہے۔بڑے لوگ دعاؤں کے لئے لکھتے ہیں۔تو اسی طرح ان کی بچوں کی روحانی اور اخلاقی حالت کی بہتری کے لئے بھی فکر ہونی چاہئے۔یہی تقویٰ ہے اور یہی اس عہد کا حق ادا کرنے کی کوشش ہے جو ہم اپنے اجلاسوں اور اجتماعوں میں دہراتے ہیں۔پس یاد رکھنا چاہئے کہ جماعتی ترقی ہمارے اپنے بچوں کی تربیت سے وابستہ نہیں ہے بلکہ ہماری اور ہماری نسلوں کی بقا ہر حالت میں جماعت سے جڑے رہنے سے وابستہ ہے۔جماعت اور اسلام کا غلبہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔اس خدا کی تقدیر ہے جو تمام طاقتوں کا مالک خدا ہے اور وہ نا قابلِ شکست اور غالب ہے۔اگر کوئی ہم میں سے راستے کی مشکلات دیکھ کر کمزوری دکھاتا ہے، اگر ہماری اولادیں ہمارے ایمان میں کمزوری کا باعث بن جاتی ہیں، اگر ہماری تربیت کا حق ادا کرنے میں کمی ہماری اولادوں کو دین سے دور لے جاتی ہے، اگر کوئی ابتلا ہمیں یا ہماری اولادوں کو ڈانواں ڈول کرنے کا باعث بن جاتا ہے تو اس سے دین کے غلبے کے فیصلے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہاں جو کمزوری دکھاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ دوسروں کو سامنے لے آتا ہے، اور لوگوں کو سامنے لے آتا ہے، نئی قو میں کھڑی کر دیتا ہے۔پس اس اہم بات کو، اور یہ بہت ہی اہم بات ہے ہمیں ہمیشہ ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی نسلوں کی تربیت کی فکر کی ضرورت ہے۔سب سے اہم بات اس سلسلے میں ہمارے اپنے پاک نمونے ہیں۔چالیس سال کی عمر کے بعد آخرت کی فکر ہونی چاہئے انصار اللہ کی عمر چالیس سال سے شروع ہوتی ہے۔گویا انصار اللہ کی عمر میں انسان اپنی پختگی کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور سوچ میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔اور جب یہ صورت ہو تو اس عمر میں پھر آخرت کی فکر بھی ہونی چاہئے اور یہی ایک ایسے شخص کا ، ایک ایسے مومن کا رویہ ہونا چاہئے جس کو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو، یقین ہواور تقویٰ میں ترقی کرنے کے لئے اس کی کوشش ہو تو پھر اس کی یہ سوچ ہونی چاہئے کیونکہ ایک احمدی نے اپنے عہد میں، عہد بیعت میں اس بات کا اقرار کیا ہوا ہے کہ اس نے تقویٰ میں ترقی کرنی ہے، تمام اعلیٰ اخلاق اپنانے ہیں ، اس لئے اس کو تو عمومی طور پر اور اس پختہ عمر میں خاص طور پر یہ سوچ اپنے اندر بہت زیادہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ انصار اللہ ہیں۔ایک ایسی عمر ہے جو نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ کا اعلان کرتے ہیں۔ان کو تو ہر وقت یہ بات اپنے پیش نظر رکھنی چاہئے۔عہد بیعت کا خلاصہ عہد بیعت کا خلاصہ کیا ہے؟ شرک سے اجتناب کرنا، جھوٹ سے بچنا لڑائی جھگڑوں اور ظلم سے بچنا،