سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 254
254 سبیل الرشاد جلد چہارم قائد عمومی سےحضورانور نے مجالس کی تعداد، چھوٹی اور بڑی مجالس کی تعداد اور ان میں شامل انصار کی تعداد کے بارہ میں دریافت فرمایا۔حضور انور کی خدمت میں یہ رپورٹ پیش کی گئی کہ انصار کی مجالس کی تعداد 236 ہے۔جن میں سے 40 مجالس ایسی ہیں جن کی انصار کی تجنید 20 تک ہے اور جو باقی مجالس ہیں ان کی انصار کی تجنید 20 سے زائد ہے۔قائد عمومی نے حضور انور کے دریافت فرمانے پر بتایا کہ وہ روزانہ دس گھنٹے دفتر میں بیٹھتے ہیں اور روزانہ کی ڈاک میں دوصد سے زائد خطوط کا جواب دیا جاتا ہے۔حضور انور کے دریافت فرمانے پر قائد عمومی نے بتایا کہ ہم نے سو فیصد مجالس سے ماہانہ رپورٹس حاصل کی ہیں۔حضور انور کی خدمت میں رپورٹس کی وصولی کا چارٹ پیش کیا گیا۔حضور انور نے یہ چارٹ ملاحظہ فرمانے کے بعد بتایا کہ مئی، جون ، جولائی میں آپ نے سو فیصد رپورٹس حاصل کی ہیں جبکہ بعد کے ماہ میں کچھ کمی آئی ہے۔بہر حال آپ کی اچھی رپورٹ ہے۔حضور انور نے دریافت فرمایا کہ مجالس سے جور پورٹ آپ کو موصول ہوتی ہیں تو ان رپورٹس پر جواب کون دیتا ہے۔قائد صاحب عمومی نے بتایا کہ جملہ قائدین اپنے اپنے شعبہ کی رپورٹ پر جواب دیتے ہیں اور قائدین کے جوابات اور تبصرے صدر مجلس کی نظر سے گزرتے ہیں۔صدر مجلس نے بتایا کہ وہ رپورٹس پر قائدین کی راہنمائی کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ یہ جواب دیں اور اس طرح لکھیں۔اس پر حضور انور نے فرمایا کہ قائدین کو خود جواب دینے دیں۔خود کام کرنا اتنا اہم نہیں ہے جتنا کام کروانا اہم ہے۔قائد تعلیم القرآن و وقف عارضی سے حضور انور نے وقف عارضی کے پروگرام کے بارہ میں دریافت فرمایا۔حضور انور کی خدمت میں یہ رپورٹ پیش کی گئی کہ وقف عارضی کے پروگرام پر توجہ نہیں ہے۔اس پر حضور انور نے فرمایا کہ میں نے (اجتماع) مجلس انصار الله یو کے پر اپنے خطاب میں انصار اللہ کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ وقف عارضی میں حصہ لیں اور با قاعدہ پر وگرام بنا کر سکیم بنا کر وقف عارضی کریں۔یہ خطاب MTA پر نشر ہو چکا ہے۔آپ نے سنا ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ جب میں ایک بات کسی مجلس انصار اللہ کو کہتا ہوں تو وہ سب کے لئے ہوتی ہے۔اچھی مجالس اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس سے ہدایات لیتی ہیں اور ان پر عمل کرتی ہیں۔اپنے پروگرام بناتی ہیں اور پھر مجھے لکھتی ہیں کہ فلاں ملک کی مجلس عاملہ انصار اللہ کو جو ہدایات دی تھیں وہ ہم نے لی