سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 264 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 264

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 244 ہے۔ اگر تکبر نہ ہوتا تو کوئی شخص کا فرنہ رہتا۔ سو تم دل کے مسکین بن جاؤ۔ عام طور پر بھی بنی نوع کی ہمدردی کرو جبکہ تم انہیں بہشت دلانے کے لئے وعظ کرتے ہو سو یہ وعظ تمہارا کب صحیح ہو سکتا ہے اگر تم اس چند روزہ دنیا میں ان کی بدخواہی کرو۔ خدا تعالیٰ کے فرائض کو دلی خوف سے بجالاؤ کہ تم ان سے پوچھے جاؤ گے۔ نمازوں میں بہت دعا کرو کہ تا خدا تمہیں اپنی طرف کھینچے اور تمہارے دلوں کو صاف کرے، کیونکہ انسان کمزور ہے۔ ہر ایک بدی جو دُور ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی قوت سے دُور ہوتی ہے“۔ اپنی طاقت سے کوئی بدی دُور نہیں کر سکتے اس لئے دعائیں مانگو۔ ”اور جب تک انسان خدا سے قوت نہ پاوے کسی بدی کے دُور کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ اسلام صرف یہ نہیں ہے کہ رسم کے طور پر اپنے تئیں کلمہ گو کہلاؤ، بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تمہاری روحیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائیں اور خدا اور اس کے احکام ہر ایک پہلو کے رو سے تمہاری 66 دنیا پر تمہیں مقدم ہو جائیں ۔ “ ( تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 63 مطبوعہ لندن) یہ ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قائم کردہ معیار جس کی طرف آپ نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ نفسانی کینوں اور عصوں سے الگ ہو جاؤ۔ یہ بڑا اچھا موقع اللہ تعالیٰ نے میسر فرمایا ہے اگر ان دنوں میں ہر ایک خود اپنا محاسبہ کرے تو اپنی تصویر خود سامنے آجائے گی۔ اگر نیک نیتی سے اپنا محاسبہ کر رہے ہوں گے تو ان نفسانی کینوں اور عضوں کا حال خود معلوم ہو جائے گا۔ ” تکبر سے بچو۔ فرمایا یہ تکبر ہی ہے جو نا فرمان بناتا ہے۔ تکبر ہی ہے جس نے انبیاء کا انکار کروایا اور یہ تکبر ہی ہے جو نظام جماعت یا عہدیداران کے خلاف دوسرے کو بھڑکاتا ہے اور یہ تکبر ہی ہے جو آپس میں بھی ایک دوسرے سے لڑاتا ہے۔ پھر حقیقی ہمدردی اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے پیدا کر و تبھی تمہاری باتوں کا اثر ہو گا، تبھی تمہاری تبلیغ مؤثر ہو گی۔ کئی لوگ ہمارے جلسوں میں شامل ہوتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی آتے تھے ، قادیان کا ماحول دیکھتے تھے اور اس ماحول کا ہی اثر ان پر ہوتا تھا۔ ان لوگوں کے اخلاق کا اثر بھی ان لوگوں پر ہوتا تھا جو احمدی ہو جاتے تھے۔ اب بھی دنیا کے مختلف ممالک میں جب جماعت کے جلسے ہوتے ہیں اور لوگ آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نیک اثر لے کر جاتے ہیں اور بعض ان میں سے