سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 258
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 238 انصار اللہ کی سب سے اہم ذمہ داری پنجوقتہ نمازوں کا قیام ہے دو پیارے انصار الله جرمنی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ الحمد لله ثم الحمد للہ کہ مجلس انصار الله جرمنی کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ مبارک کرے اور سب انصار کو اس روحانی ماحول سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے۔ صدر صاحب انصار اللہ نے مجھے اس موقع پر پیغام بھجوانے کے لئے کہا ہے۔ میں آپ کو انصار اللہ کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انصار اللہ کی سب سے اہم ذمہ داری پنجوقتہ نمازوں کا قیام ہے۔ قرآن کریم نے مومنوں کی سب سے پہلی یہی علامت بیان فرمائی ہے کہ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ یعنی وہ نمازوں کو قائم کرتے ہیں۔ اس کو ضائع نہیں ہونے دیتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز کی ادائیگی کی بہت تاکید فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ مومن اور کافر میں فرق کرنے والی شے نماز ہے۔ ایک حدیث میں اس طرح بھی آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نئی جماعت آئی انہوں نے نماز کی معافی کی درخواست کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ جس مذہب میں عمل نہیں وہ مذہب کچھ نہیں۔ حضرت مسیح موعود نے بھی اپنی جماعت کو بار بار نمازوں کے قیام کی طرف توجہ دلائی ہے اور بڑے کھول کر بیان فرمایا ہے کہ نماز خواہ نخواہ کا ٹیکس نہیں ہے بلکہ تمام سعادتوں کی کنجی نماز ہے اور انسان کبھی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ اقام الصلوۃ نہ کرے۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ: ”اس زندگی کے کل انفاس اگر دنیاوی کاموں میں گزر گئے تو آخرت کے لئے کیا ذخیرہ کیا۔ تہجد میں خاص کر اٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔ درمیانی نمازوں میں بباعث ملازمت کے ابتلاء آجاتا ہے۔ رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہیے ۔ “ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 6) نیز فرماتے ہیں: ”نماز سنوار کر پڑھو۔ خدا جو یہاں ہے وہ وہاں بھی ہے۔ پس ایسا نہ ہو کہ جب تک تم یہاں ہو تو تمہارے دلوں میں رقت اور خدا کا خوف ہو اور جب پھر اپنے گھروں میں