سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 255
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 235 ہر سطح پر نظام جماعت کو اخراجات کے بارے میں احتیاط کرنی چاہیے دو جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوشش کرتی ہے کہ کم از کم وسائل کو زیر استعمال لا کر زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے۔ یہ معاشیات کا سادہ اصول ہے۔ اور دوسری دنیا میں تو پتہ نہیں اس پر عمل ہو رہا ہے کہ نہیں لیکن جماعت اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور کرنی چاہیے۔ جو بھی جماعتی عہدیدار منصوبہ بندی کرنے والے یا کام کرنے والے یار تم خرچ کرنے والے مقرر کئے گئے ہوں ان کو ہمیشہ اس کے مطابق سوچنا چاہیے اور منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ بعض دفعہ بے احتیاطیاں بھی ہو جاتی ہیں اس لئے جیسا کہ میں نے کہا کہ جو ذمہ دار افراد ہیں وہ اس بات کا ہمیشہ خیال رکھا کریں کہ جماعت کا ایک ایک پیسہ با مقصد خرچ ہونا چاہیے۔ جماعت میں اکثریت ان غریب لوگوں کی ہے جو بڑی قربانی کرتے ہوئے چندے دیتے ہیں اس لئے ہر سطح پر نظام جماعت کو اخراجات کے بارے میں احتیاط کرنی چاہیے کہ ہر پیسہ جو خرچ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے خرچ ہو اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی پر خرچ ہو۔ جب تک ہم اس روح کے ساتھ اپنے اخراجات کرتے رہیں گے ، ہمارے کاموں میں اللہ تعالیٰ بے انتہا برکت ڈالتا رہے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ ابھی تک جماعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک ہے کہ جہاں کسی کام پر دوسروں کا ایک ہزار خرچ ہو رہا ہو وہاں جماعت کو ایک سو خرچ کر کے وہ مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں۔ تو جب تک اس طرح جماعت احتیاط کے ساتھ خرچ کرتی رہے گی، برکت بھی پڑتی رہے گی۔ جہاں قربانیاں کرنے والے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنی قربانیاں تمام قسم کی بدظنیوں سے بالا ہو کر پیش کریں گے اور جماعت کے افراد اسی سوچ کے ساتھ کرتے ہیں، ان کو پتہ ہے کہ خرچ کرنے والے احتیاط سے خرچ کرنے والے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا ہے۔“ (خطبه جمعه فرموده 12 جنوری 2007ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 5 صفحہ 11-12)