سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 233
233 سبیل الرشاد جلد چہارم جو ثمر آور ہوں گی اور ایسے پھل لائیں گی جو نہ صرف ہمارے اندر پاک تبدیلی کے معیار پیدا کریں گی بلکہ اس کی وجہ سے ہم اپنے ماحول میں اللہ اور رسول کا پیغام پہنچا کر نیک اور پاک اور سعید روحوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہوں گے اور اپنی اولا دوں کی تربیت کر کے ان کو بھی پھلوں سے لا در ہے ہوں گے۔ان کی بہترین پرورش کر کے اور اپنے اردگرد کے ماحول میں اور معاشرے میں تبلیغ کے ذریعہ سے بھی پھل حاصل کر رہے ہوں گے تو دنیا کو خدا تعالیٰ کے دامن میں لانے والے ہوں گے۔اور یہی چیزیں اللہ تعالیٰ کی رضا کا باعث بنتی ہیں۔پس ایسے باغ لگانے کی ہم نے کوشش کرنی ہے جو ہمیشہ پھل دار باغ ہوں۔جو ایسے سدا بہار درخت ہوں جن میں ہمیشہ پھل لگتے رہیں اور کبھی خزاں نہ آنے پائے۔تو یہ کوششیں بھی ہم نے کرنی ہیں۔محنت اور اخلاص اور وفا اور عبادتوں کے درخت جب ہم اپنے دلوں میں لگائیں گے تو یہ ہمیں حقیقی انصار اللہ بنائیں گے۔پس یہ باتیں ہیں جو ہمیں بحیثیت انصار اللہ اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اللہ تعالیٰ تو نبیوں کی جماعت کے بارہ میں کہ ہی چکا ہے کہ وہ غالب آئیں گے۔كَتَبَ اللَّهِ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلِـي (المجادلۃ : 22) کر لکھی ہوئی بات ہے کہ میں نے اور میرے رسولوں نے غالب آنا ہی آنا ہے اور کوئی دنیا کی طاقت اس غلبہ کو نہیں روک سکتی۔اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ میں نے غالب آتا ہے۔دوسری طرف یہ اعلان کروایا کہ کون ہیں انصار اللہ جو اللہ کے کاموں میں مددگار بنیں۔تو کیا اللہ تعالیٰ بندوں کی مدد کے بغیر غالب نہیں آسکتا ؟ کیا اللہ تعالیٰ کو غالب آنے کے لئے بندوں کی ضرورت ہے؟ اللہ تعالیٰ غالب آئے گا اور ضرور آئے گا۔آج بھی جماعت احمد یہ دنیا میں پھیل رہی ہے تو کسی انسانی کوشش سے نہیں پھیل رہی ہے۔اللہ تعالیٰ خود فرشتوں کے ذریعہ سعید روحوں کو اس طرف پھیر رہا ہے۔اور ہمارے آباؤ اجداد میں بہت سے ایسے ہیں جو کسی دلیل کے بغیر کسی علم کے بغیر صرف اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے احمدیت کی طرف مائل ہوئے۔ان میں بعض خوابوں کے ذریعہ احمدی ہوئے۔پس یہ غلبہ تو انشاء اللہ ہوگا لیکن اگر ہم اس میں شامل ہو جائیں گے تو ثواب سے حصہ لینے والے ہوں گے جو اس کام کے صلہ میں ملے گا۔اللہ تعالیٰ کو اپنی بڑائی کے لئے نہ ہماری عبادتوں کی ضرورت ہے، نہ اپنا پیغام پہنچانے کے لئے ہماری کوششوں کی ضرورت ہے، نہ ہماری مدد کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَالله غَالِبٌ عَلَى أَمْرِه (یوسف: 22 ) کہ اللہ اپنے فیصلہ پر غالب ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ اور اس کے رسول غالب آئیں گے تو پھر انصار اللہ کی مدد کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ غالب ہے اپنے فیصلہ میں اور اس کو پورا کرتا ہے۔یہ تو صاف ظاہر ہے۔جیسا کہ میں نے کہا، یہ تو ہماری بہتری کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں پاک کرنے کے لئے یہ فرما رہا ہے۔ہمیں اس ثواب میں حصہ دار بنانے کے لئے فرما رہا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے لیکن میں تمہیں بتا تا ہوں کہ تمہارا ہی فائدہ ہے کہ یہ نیک کام جس کی طرف