سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 246 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 246

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 226 رہا اپنی جان کی بھی کچھ پرواہ نہیں کی۔ اب میں تم سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر تمہیں میرے آخری الفاظ کا پاس ہے تو اگر تمہیں اپنی جانوں کے نذرانے بھی دینے پڑے تو اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اور رشتہ داروں کو پیغام بھیجا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور آپ لوگ کبھی بھی اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کریں گے۔ تو یہ تھے ان ایمان میں سبقت لے جانے والوں کے نمونے ۔ جب نَحْنُ اَنْصَارُ الله کا اعلان کیا تو اپنا سب کچھ اللہ ، رسول اور اس کے دین پر نچھاور کر دیا۔ پس یہ نمونے ہیں جو آج آپ انصار اللہ کہلانے والوں نے دکھانے ہیں۔ پس جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ انصار اللہ کے الفاظ پر غور کریں، اس عہد پر غور کریں جو آپ اپنے اجلاسوں اور اجتماعوں میں پڑھتے ہیں۔ آج آپ سے تلوار چلانے کا مطالبہ نہیں کیا جارہا، جنگ میں اپنے آپ کو جھونکنے کا مطالبہ نہیں کیا جارہا، تو پوں اور گولوں کے سامنے کھڑے ہونے کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا۔ مطالبہ ہے تو یہ ہے کہ اللہ کے حقوق ادا کرو، اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرو، اپنی عبادتوں کے وہ نمونے قائم کرو جو خدام کیلئے بھی مثال بن جائیں اور اطفال کیلئے بھی مثال بن جائیں ، وہ تمہاری بیویوں کیلئے بھی مثال بن جائیں اور تمہاری بچیوں کیلئے بھی مثال بن جائیں، تمہاری مالی قربانیاں بھی ایسی ہوں جن کے نمونہ سے دوسرے بھی فائدہ اٹھائیں۔ پرسوں جمعہ کو جو میں نے ۔U۔K کی بعض جماعتوں کا جائزہ پیش کیا تھا، اس جائزہ کو آپ لوگوں کو جھنجھوڑ دینا چاہیے۔ عموماً اچھی کمائی کا وقت اور بہتر آمد کا وقت چالیس سال سے ساٹھ سال تک کی عمر کا ہوتا ہے۔ اپنے وعدوں کو دیکھیں، اپنے عہدوں کو دیکھیں، اپنے اس عہد کو دیکھیں اور پھر اپنی قربانی کے معیاروں کو دیکھیں۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جو تم اپنے پر خرچ کر لیتے ہو یا اللہ کی راہ میں جو تم نے خرچ کر دیا وہی بچا ہے ، جو تم بچا کر چلے گئے ہو وہ تمہارے کسی کام کا نہیں، وہ تمہارا نہیں۔ لیکن اپنے پر خرچ کرنے کی بھی حدیں مقرر ہیں کہ اعتدال سے خرچ کرو، جائز خرچ کرو۔ جمعہ پر جو میں نے مالی جائزہ پیش کیا تھا اس میں پاکستانی احمدیوں کی قربانی سب سے زیادہ تھی۔ گزشتہ سال سے گل قربانی میں اضافہ بھی ان کا سب سے زیادہ تھا اور ان کے