سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 245 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 245

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 225 پہلے ہوا تھا اور وہ آپ کی حفاظت اس صورت میں کرنے کا تھا کہ اگر مدینہ میں دشمن آپ پر حملہ کرے تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے اور مدینہ سے باہر نکل کر حفاظت کی ذمہ داری ہم نہیں لے سکتے۔ لیکن اب آپ بدر کے میدان میں کھڑے ہیں، مدینہ سے باہر ہیں تو ہمارے سے ہماری رائے پوچھ رہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اسی لئے میں پوچھ رہا ہوں۔ تو رے وجود اور انصار سردار نے عرض کیا کہ جب یہ پہلا معاہدہ ہوا تھا تو اس وقت ہم آپ کے پیارے پیاری تعلیم سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ اب حقیقت ہم پر مکمل طور پر کھل گئی ہے ، ہر طرح سے روشن ہو گئی ہے۔ اب اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس معاہدہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا ، اب ہم موسیٰ کے ساتھیوں کی طرح یہ جواب نہیں دیں گے فَاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قَاعِدُونَ (سورۃ المائدہ: 25) کہ تو اور تیر ارب جاکر دشمن سے لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ نہیں بلکہ ہمارا جواب بھی وہی ہے جو مہاجرین دے چکے ہیں کہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے ، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور ہماری لاشوں کو روندے بغیر دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اگر آپ کہیں تو ہم لوگ سمندر میں بھی گھوڑے دوڑا دیں۔ عرب چونکہ ریگستان میں رہنے والے تھے ، سمندر کافی فاصلے پر تھا، پانی سے وہ لوگ ڈرتے تھے اس کو جانتے نہیں تھے ، ایک خوف تھا۔ لیکن اس ایمان نے اتنی جرات پیدا کر دی کہ آپ کہیں تو ہم سمندر میں بھی گھوڑے دوڑا دیں گے۔ تو یہ تھا فدائیت کا وہ نمونہ جو انصار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی سے فیض پانے کے بعد دکھایا۔ پھر جنگ اُحد میں انصار کا نمونہ بھی دیکھیں کہ ایک انصاری جو قریب المرگ تھے، زخموں سے چور تھے ، جب ان سے کسی نے پوچھا کہ تمہاری کوئی آخری خواہش رشتے داروں کو پہنچانے کیلئے ، تمہارا کوئی پیغام ہے ؟ تو انہوں نے نہ اپنے بچوں کی فکر کا اظہار کیا، نہ اپنی بیوی کی فکر کا اظہار کیا، فکر تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اور کہا کہ میرے رشتے داروں کو یہ پیغام پہنچا دینا کہ وہ تمہیں سلام کہتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تو مر رہا ہوں لیکن اپنے پیچھے تمہارے سپر د خدا تعالیٰ کی ایک مقدس امانت کر کے جا رہا ہوں۔ میں جب تک زندہ رہا اس مقدس امانت کی حفاظت کرتا