سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 242 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 242

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 222 چالیس سال سے اوپر ہر ناصر کے دل میں اللہ کا خوف پہلے سے زیادہ ہو تو ایک ناصر جو چالیس سال کی عمر سے اوپر جا چکا ہے، جس کی سوچ میں گہرائی آجانی چاہیے ، جس کو اپنی عمر کے بڑھنے کے ساتھ اپنی زندگی کے کم ہونے کا احساس ہو جانا چاہیے ، جس کو اللہ کا خوف پہلے کی نسبت زیادہ ہونا چاہیے ، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ایمان لاتے ہوئے آپ کے مسیح اور مہدی علیہ السلام کی جماعت میں بھی شامل ہو چکا ہے، اس کے اللہ کے مدد گار بننے کے معیار بہت بڑھ جانے چاہئیں۔ ہر وقت یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ ہم نے خدا کی رضا حاصل کرنی ہے، تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنا ہے ، جہاں ہر وقت یہ خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں سے رتی بھر بھی ادھر اُدھر نہیں ہونا۔ گو یہ بہت مشکل کام ہے لیکن ایک موم مومن کا یہی کام ہے کہ اس طرف توجہ رہے اور پھر ایسے شخص کو جس نے انصار اللہ ہونے کا عہد کیا ہے، ایمان کا یہ اعلیٰ معیار اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی محبت سب محبتوں پر حاوی ہو جائے، نہ مال کی محبت ہو نہ اولاد کی محبت ہو ، نہ کسی اور چیز کی محبت ہو۔ یہ معیار ہے جو ایک خالص مومن کو حاصل کرنا چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بز دلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے ۔ “ (رسالہ الوصیت ، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 309) تو دیکھیں یہ ایمان کا معیار ہے اور جیسا کہ میں نے کہا جب انسان اس عمر میں داخل ہوتا ہے جب آئندہ زندگی تھوڑی نظر آتی ہے یا آرہی ہوتی ہے تو کس قدر اس امر کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہمارا نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ کا نعرہ خالصہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے لگایا ہو ا نعرہ ہو اور ہمارا ہر قدم جو اس راہ میں اٹھے وہ اللہ تعالیٰ کے قریب ترلے جانے والا قدم ہو ، وہ صدق سے اٹھا ہو ا قدم ہو ، سچائی اس میں سے پھوٹ رہی ہو ، اللہ کی عبادتوں کی طرف بھی ہماری نظر ہو اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار رہنے کی