سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 219
219 سبیل الرشاد جلد چہارم ہوں۔کہنے کو احمدی ہوں اور نمازوں کی ادائیگی کی طرف بے رغبتی ہو۔انصار اللہ کی عمر ایک ایسی عمر ہے جس میں ویسے ہی خیال آجانا چاہئے کہ ہماری عمر گھٹ رہی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ عمر بڑھ رہی ہے۔لیکن جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے اصل میں تو آپ کی عمر میں کمی آتی جارہی ہے۔حضور نے فرمایا یہ نظم جوا بھی پڑھی گئی ہے اس میں یہی توجہ دلائی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہ دنیا تو ایک عارضی ٹھکانہ ہے آخر مرنا ہے اور جب مرکز اللہ تعالیٰ کے حضور جانا ہے اور یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں جواب دہی ہونی ہے تو اس چیز کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا کہ ایسا حواری ہو جو مشورے دے تو پوری ایمانداری سے دے۔آپ میں سے عہدیدار بھی ہیں۔آپ میں سے عام احمدی بھی ہیں جو عہد یدار منتخب کرتے ہیں۔آپ جب بھی اپنے عہدیدار کو منتخب کریں تو ایسے عہدیداروں کو منتخب کریں جو آپ کے نزدیک ایماندارانہ رائے رکھتے ہوں۔انتہائی قابل اعتماد شخص اور جماعت کے ساتھ وفا کا تعلق رکھنے والے اور خدمت کرنے والے ہوں۔عہد یداران ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض ادا کریں حضور انور نے فرمایا اسی طرح عہدیدار جب وہ منتخب ہو جاتے ہیں تو ان کا کام یہ ہے کہ آپ ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کریں۔اگر ایسا کریں گے تو تبھی آپ وفادار کہلا ئیں گے۔تبھی آپ خالص مدد گار کہلائیں گے۔صرف انصار اللہ کانعرہ لگا دینایا انصار اللہ کا لیبل اپنے ساتھ لگا لینا یا نَحْنُ انْصار اللہ کہہ دینا کافی نہیں ہوگا۔پس ان باتوں کا خاص طور پر خیال رکھیں۔حضور نے فرمایا جہاں تک اللہ تعالیٰ کا سوال ہے۔اللہ تعالیٰ کو تو مدد کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ جوسب قدرتوں کا مالک ہے وہ بغیر کسی کی مدد کے بھی خود براہ راست مدد کر سکتا ہے۔لیکن یہ ایک اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ بندوں کو دے رہا ہے کہ کون ہے تم میں سے جو وفادار ہو کر، جو سچا ہوکر، جو پوری طرح تیار ہو کر، دنیا کی تمام خواہشوں کو دور رکھتے ہوئے ، خالص ہو کر میرے دین کی مدد کے لئے آئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شریعت نے اسباب کو منع نہیں کیا ہے۔شریعت نے جو بھی ذرائع ، وسائل ہیں ان سے منع نہیں کیا۔ان کو ضرور استعمال کرنا چاہئے۔اور فرمایا : سچ پوچھو تو کیا دعا اسباب میں نہیں ہے؟ دعا بھی تو سبب بنایا ہے نا۔کسی چیز کو حاصل کرنے کے لئے کیا دعا اسباب نہیں۔تلاش اسباب بجائے خود ایک دعا ہے۔جب انسان کسی ذریعہ کی تلاش کرتا ہے تو وہ بھی ایک دعا بن جاتی ہے۔اور پھر فرمایا کہ دعا بجائے خود عظیم الشان اسباب کا ایک چشمہ ہے۔دعا بہت بڑا سبب اور ذریعہ ہے۔پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس بات کو وضاحت سے دنیا پر کھول دینے کے لئے انبیاء علیہم السلام کا ایک