سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 213 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 213

سبیل الرشاد جلد چہارم 213 عہد یداران خالی الذہن ہو کر فیصلہ کریں اور تربیت کا کام اچھے طریقے سے سرانجام دیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 20 جون 2008ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔"میں نے کہا آج کل یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور امریکہ میں خاص طور پر یہ بنتا جارہا ہے۔مجھے نہیں پتہ کہ ابتدا میں قصور لڑکی کا ہوتا ہے یالڑ کے کا۔کچھ نہ کچھ قصور دونوں کا ہوتا ہوگا۔لیکن جو باتیں سامنے آتی ہیں ، آخر میں لڑکا اور اس کے گھر والے عموماً زیادہ قصور وار ہوتے ہیں۔بعض دفعہ بچے ہو جاتے ہیں اور پھر میاں بیوی کی علیحدگی ہوتی ہے۔ایک دوسرے کو بچوں کے ذریعے سے جذباتی تکلیف پہنچا کر تنگ کیا جاتا ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کا بڑا واضح حکم ہے کہ نہ باپ کو اور نہ ماں کو بچوں کے ذریعہ سے تنگ کرو، تکلیف پہنچاؤ۔اور پھر یہ نہیں کہ پھر تنگ ہی کرتے ہیں بلکہ بعض ماؤں سے بچے چھین لیتے ہیں اور جب میں نے اس بارے میں کئی کیسز میں تحقیق کروائی ہے تو مجھے پھر جھوٹ لکھ دیتے ہیں۔اگر وہ جھوٹ لکھ کر مجھے دھوکہ دے بھی دیں تو خدا تعالیٰ کو تو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔وہ تو عالم الغیب ہے۔تو یہ سب کچھ بھی صرف اس لئے ہوتا ہے کہ تقویٰ میں کمی ہے اور اس میں بعض ماں باپ بھی اکثر جگہ قصوروار ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا یہ تعداد بڑھ رہی ہے جو مجھے فکر مند کر رہی ہے۔آپ کے کسی عہدیدار نے مجھے کہا کہ لڑکیوں سے کہیں کہ جماعت میں ایسے ہی لڑکے ہیں ان سے گزارا کریں۔تو ایک تو ایسے عہدیداروں سے یہ میں کہتا ہوں کہ جب فیصلے کے لئے آپ کے پاس کوئی آئے تو خالی الذہن ہو کر فیصلہ کریں۔نہ لڑکے کو مجبور کریں نہ لڑکی کو مجبور کریں اور نہ کسی پر کسی قسم کی زیادتی ہو۔دوسرے میرے نزدیک یہ بات ہمارے احمدی نوجوانوں پر بھی بدظنی ہے کہ نہ ہی ان کی اصلاح ہوگی اور نہ ہوسکتی ہے۔اور پھر یہی نہیں بلکہ یہ خدا تعالیٰ پر بھی بدظنی ہے کہ اُس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ ان کی اصلاح کر سکے۔میں نے تو نصیحت اور دعا سے کئی معاملات میں مختلف قسم کی طبائع میں بڑی واضح تبدیلیاں ہوتے دیکھی ہیں۔میں کس طرح بچیوں سے کہوں کہ تمہارے معاملات کا کوئی حل نہیں ہے، زیادتیوں کو برداشت کرتی چلی جاؤ۔یالڑکوں کے بارہ میں یہ اعلان کر دوں کہ وہ قابل اصلاح نہیں ہیں۔میں نے تو یہاں آکر نو جوانوں میں لڑکوں میں بھی ، مردوں میں بھی، جو اخلاص دیکھا ہے میں تو ان صاحب کی بات پر یقین نہیں کرسکتا۔مجھے تو بہت اخلاص سے بھرے ہوئے نوجوان نظر آرہے ہیں۔اگر چند ایک لڑکے جماعت میں زیادتی کرنے والے ہیں تو اس اعلان کے بعد گویا پھر لڑکوں کو تو کھلی چھوٹ مل جائے گی ہمیں کھلی چھوٹ دے رہا ہوں گا کہ تم بھی تقوی کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کے نقش قدم پر چلنے والے بن جاؤ۔