سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 209 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 209

209 سبیل الرشاد جلد چہارم انقلاب کو آپ کی پیروی کرنے والوں کے ذریعہ سے نعمت خلافت کے ذریعہ جاری رکھنے کا بھی اس ذوالعجائب اور قدیر ہستی کا وعدہ ہے اور اس کی تصدیق ہوتے ہوئے ایک دنیا نے حضرت مولانا نورالدین خلیفتہ المسیح الاول کے انتخاب خلافت کے وقت دیکھی۔باوجود اس کے کہ مخالفین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ ایک منظم جماعت کو دیکھ رہے تھے، باوجود اس کے کہ وہ خلافت کے قیام کا نظارہ دیکھ چکے تھے لیکن انہوں نے جماعت کو ، اس جماعت کو جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے قائم کردہ جماعت تھی ایک منظم کوشش کے تحت توڑنے کی کوشش کی جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا: " اذْكُرُ نِعْمَتِي - غَرَسُتُ لَكَ بِيَدِى رَحْمَتِي وَقُدْرَتِي۔“ ( تذکرہ صفحہ: 428) ترجمہ: میری نعمت کو یاد کر۔میں نے تیرے لئے اپنے ہاتھ سے اپنی رحمت اور اپنی قدرت کا درخت لگا دیا ہے۔پس اس وعدہ کے مطابق وہ ہمیشہ کی طرح ناکام ہوئے گو کہ یہاں تک مخالفت کی شدت میں بڑھے کہ ایک اخبار نے لکھا: " ہم سے کوئی پوچھے تو ہم خدا لگتی کہنے کو تیار ہیں کہ مسلمانوں سے ہو سکے تو مرزا کی گل کتا بیں سمندر میں نہیں کسی جلتے تنور میں جھونک دیں۔اسی پر بس نہیں بلکہ آئندہ کوئی مسلم یا غیر مسلم مؤرخ تاریخ ہند یا تاریخ اسلام میں ان کا نام تک نہ لے۔( اخبار وکیل امرتسر 13 جون 1908 ء۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 205-206 ) لیکن آج تاریخ احمدیت گواہ ہے، دنیا جانتی ہے کہ ان کا نام لیوا تو کوئی نہیں لیکن خلافت کی برکت سے احمدیت دنیا میں پھول پھل رہی ہے اور کروڑوں اس کے نام لیوا ہیں۔اپنی بیہودہ گوئیوں میں یہاں تک بڑھے کہ ایک اخبار کرزن گزٹ میں لکھا جسے حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے اپنی پہلی جلسہ کی تقریر میں بیان کیا کہ : اب مرزائیوں میں کیا رہ گیا ہے۔ان کا سرکٹ چکا ہے۔ایک شخص جو ان کا امام بنا ہے اُس سے تو کچھ ہو گا نہیں۔ہاں یہ ہے کہ تمہیں کسی مسجد میں قرآن سنایا کرے۔" ( تاریخ احمد بیت جلد 3 صفحہ 221) حضرت خلیفتہ اصبح الاول نے فرمایا سبحان اللہ یہی تو کام ہے۔خدا توفیق دے۔بدقسمتی سے جماعت کے بعض سر کر دہ بھی خلافت کے مقام کو نہ سمجھے۔سازشیں ہوتی رہیں لیکن خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا بڑھتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق محبوں کی جماعت بڑھتی رہی اور کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کارگر نہ ہوئی۔پھر خلافت ثانیہ کا دور آیا تو بعض سرکردہ انجمن کے ممبران کھل کر مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے لیکن وہ تمام سرکردہ علم کے زعم سے بھرے ہوئے، تجربہ کار پڑھے لکھے اس پچیس سالہ جوان کے سامنے ٹھہر نہ سکے اور اس نے جماعت کی تنظیم تبلیغ ، تربیت، علوم و معرفت قرآن میں وہ مقام پیدا کیا کہ کوئی اس کے مقابل ٹھہر نہ