سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 226
206 سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول انصار اللہ کی سب سے اہم ذمہ داری نئی نسل کی تربیت ہے وو پیارے انصار الله جرمنی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته مجھے خوشی ہے کہ آپ اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق پارہے ہیں اور ایک بار پھر نیک مقاصد کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ اللہ کرے کہ اس دوران آپ سب اپنے مولیٰ کو راضی کرنے والی نیکیوں کی توفیق پائیں۔ یاد رکھیں کہ انصار اللہ کی سب سے اہم ذمہ داری نئی نسل کی تربیت ہے۔ اگر انصار اپنے بچوں کی اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ ایک اہم مقصد کو حاصل کرنے والے ٹھہریں گے۔ اس کیلئے آپ کو نیک نمونہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک آپ کا اپنا نمونہ ٹھیک نہ ہو گا آپ اپنی اولاد کی تربیت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس لئے آپ کا فرض ہے کہ خدا کی محبت اپنے دلوں میں بٹھائیں۔ ہر وہ کام کریں جو آپ کو خدا سے ملانے والا ہو اور ہر اس کام سے باز رہیں جو خدا سے دور لے جانے والا ہے۔ اگر آپ نے اپنے دلوں میں خدا کی خالص محبت پیدا کر لی اور خدا کو اپنے دلوں میں بٹھا لیا تو آپ کے بچوں کے دل بھی اس کی محبت سے بھر جائیں گے۔ پس اپنے نیک نمونے کے ساتھ اپنے بچوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کریں۔ ہمارا عملی نمونہ ہی ہے جو ہمارے بچوں کے دلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ عملی حالت کا عمدہ ہونا بہت ضروری ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: واعظ اس قسم کے ہونے چاہئیں جو پہلے اپنی اصلاح کریں اور اپنے چلن میں ایک پاک تبدیلی کر کے دکھلائیں تاکہ ان کے نیک نمونوں کا اثر دوسروں پر پڑے۔ عملی حالت کا عمدہ ہونا یہ سب سے بہترین وعظ ہے۔ جو لوگ صرف وعظ کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے وہ دوسروں پر کوئی اچھا اثر نہیں ڈال سکتے بلکہ اُن کا وعظ اباحت پھیلانے والا ہو جاتا ہے کیونکہ سننے والے جب دیکھتے ہیں کہ وعظ کہنے والا خود عمل نہیں کرتا تو وہ اُن باتوں کو بالکل خیالی سمجھتے )370-369 ہیں۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحہ