سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 173
173 سبیل الرشاد جلد چہارم سے لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔نہیں بلکہ ہمارا جواب بھی وہی ہے جو مہاجرین دے چکے ہیں کہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے ، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور ہماری لاشوں کو روندے بغیر دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا، اگر آپ کہیں تو ہم لوگ سمندر میں بھی گھوڑے دوڑا دیں۔عرب چونکہ ریگستان میں رہنے والے تھے، سمندر کافی فاصلے پر تھا، پانی سے وہ لوگ ڈرتے تھے اس کو جانتے نہیں تھے ایک خوف تھا۔لیکن اس ایمان نے اتنی جرات پیدا کر دی کہ آپ کہیں تو ہم سمندر میں بھی گھوڑے دوڑا دیں گے۔تو یہ تھا فدائیت کا وہ نمونہ جو انصار نے آپ صلی اللہ کی قوت قدسی سے فیض پانے کے بعد دکھایا۔پھر جنگ اُحد میں انصار کا نمونہ بھی دیکھیں کہ ایک انصاری جو قریب المرگ تھے، زخموں سے چور تھے، جب ان سے کسی نے پوچھا کہ تمہاری کوئی آخری خواہش رشتے داروں کو پہنچانے کیلئے تمہارا کوئی پیغام ہے؟ تو انہوں نے نہ اپنے بچوں کی فکر کا اظہار کیا ، نہ اپنی بیوی کی فکر کا اظہار کیا، فکر تھی تو آنحضرت علی اللہ کی اور کہا کہ میرے رشتے داروں کو یہ پیغام پہنچادینا کہ وہ تمہیں سلام کہتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تو مر رہا ہوں لیکن اپنے پیچھے تمہارے سپر د خدا تعالیٰ کی ایک مقدس امانت کر کے جا رہا ہوں۔میں جب تک زندہ رہا اس مقدس امانت کی حفاظت کرتا رہا اپنی جان کی بھی کچھ پرواہ نہیں کی، اب میں تم سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر تمہیں میرے آخری الفاظ کا پاس ہے تو اگر تمہیں اپنی جانوں کے نذرانے بھی دینے پڑے تو اس رسول عبید اللہ کی حفاظت کرنا۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اور رشتہ داروں کو پیغام بھیجا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگوں میں آنحضرت عبیل اللہ کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور آپ لوگ کبھی بھی اپنی جانوں کی پر واہ نہیں کریں گے۔تو یہ تھے ان ایمان میں سبقت لے جانے والوں کے نمونے۔جب نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ کا اعلان کیا تو اپنا سب کچھ اللہ ، رسول اور اس کے دین پر نچھاور کر دیا۔پس یہ نمونے ہیں جو آج آپ انصار اللہ کہلانے والوں نے دکھانے ہیں۔پس جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ انصار اللہ کے الفاظ پر غور کریں، اس عہد پر غور کریں جو آپ اپنے اجلاسوں اور اجتماعوں میں پڑھتے ہیں۔آج آپ سے تلوار چلانے کا مطالبہ نہیں کیا جارہا ، جنگ میں اپنے آپ کو جھونکنے کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا، توپوں اور گولوں کے سامنے کھڑے ہونے کا مطالبہ نہیں کیا جارہا۔مطالبہ ہے تو یہ ہے کہ اللہ کے حقوق ادا کرو، اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرو۔اپنی عبادتوں کے وہ نمونے قائم کرو جو خدام کیلئے بھی مثال بن جائیں اور اطفال کیلئے بھی مثال بن جائیں، وہ تمہاری بیویوں کیلئے بھی مثال بن جائیں اور تمہاری بچیوں کیلئے بھی مثال بن جائیں۔تمہاری مالی قربانیاں بھی ایسی ہوں جن کے نمونہ سے دوسرے بھی فائدہ اٹھائیں۔