سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 189

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 169 کہ ہم ایک خدا کو ماننے والے ہیں اور اس کی عبادت کرنے والے ہیں بلکہ امام الزمان، اس کے خلیفہ اور اس کے نظام کے آگے یوں سر ڈالنا ہو گا کہ انانیت کی ذراسی بھی ملونی نظر نہ آئے، کچھ بھی رمق باقی نہ رہے۔ ورنہ تو یہ انانیت کے ثبت اس نظام کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے بلکہ پھر یہ خلیفہ وقت کے مقابلے پہ بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہاں سے بھی اطاعت سے باہر نکل جاتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور وہی شخص جو یہ خیال کر رہا ہوتا ہے کہ میں سب سے بڑا موحد ہوں، خدا کی عبادت کرنے والا ہوں ، شرک کرنے والوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ اللہ کرے کہ ہر احمدی اس شرک سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے والا ہو۔ اللہ سے مدد مانگتے ہوئے اپنے نفس کی خواہشات اور اناؤں کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور وہ نمونے قائم کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔ اس میں یہی تو ستر ہے آپ فرماتے ہیں: ” یہ سچی بات ہے کہ کوئی قوم ، قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کرے“۔ فرمایا کہ اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اب اللہ اور رسول کی اطاعت کے بعد اولوالامر کی اطاعت ہے اور اولوالامر میں نظام جماعت کا ہر شخص شامل ہے۔ ایک احمدی بھی جو عہدیدار نہیں ہے اور وہ بھی جو عہدیدار ہے۔ ہر عہدیدار اپنے سے بالا عہدیدار کی اطاعت کرے۔ ہر احمدی ہر عہدیدار کی اطاعت کرے۔ فرمایا کہ: ”اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے پھر جس کام کو چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ، ھ جماعت پر ہوتا ہے۔ اس میں یہی تو ستر ہے “۔