سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 139
سبیل الرشاد جلد چہارم 139 کے سیکرٹریان مال کے ذریعہ چندہ اکٹھا نہیں کروا سکتے۔وہ صرف اپنی تنظیموں کا چندہ اکٹھا کریں گے۔حضور انور نے فرمایا کہ ذیلی تنظیمیں براہ راست خلیفتہ امیج کے ماتحت ہیں اور ان کی رپورٹس براہ راست مجھے آتی ہیں۔میں ان کی رپورٹس دیکھتا ہوں اور ان پر اپنے ریمارکس دیتا ہوں۔صدر صاحب مجلس انصاراللہ کو ہدایت حضور انور نے فرمایا کہ آپ بھی تربیت کا پروگرام بنائیں۔اگر انصار اللہ مساجد میں پچاس فیصد حاضر ہورہے ہیں تو مزید کوشش سے یہ تعداد %75 تک بڑھ سکتی ہے۔اگر زیادہ انصار آئیں گے تو جوانوں کے لئے مثال بنیں گے۔(الفضل انٹرنیشنل 5 مئی 2006ء) ذیلی تنظیموں کے عہدیداران وصیت کے مبارک نظام میں شامل ہوں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سڈنی آسٹریلیا میں 14 اپریل 2006ء کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا۔اب میں سمجھتا ہوں 100 سال کے بعد بیرون ہندوستان کے پہلے موصی کے ملک میں یہ میرا دورہ ہے اور اس سے پہلے میں وصیت کرنے کی تحریک بھی کر چکا ہوں۔یہاں آنے سے پہلے مجھے علم بھی نہیں تھا کہ یہاں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نظام وصیت کا پہلا پھل آج سے 100 سال پہلے لگ چکا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں یہ پھل لگا اور آج سے پورے 100 سال پہلے ایک ایسا کامیاب پھل تھا جس کی اللہ تعالیٰ نے تسلی بھی کروائی کہ تمہارا انجام بھی بخیر ہوگا۔تو کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ بیرون پاکستان اور ہندوستان نظام وصیت کی طرف توجہ اس ملک کے احمدیوں کو اس لحاظ سے بھی خاص طور پر کرنی چاہئے کہ وہ ایک شخص تھا یا چند ایک اشخاص تھے جو یہاں رہتے تھے ان میں سے ایک نے لبیک کہتے ہوئے فوری طور پر وصیت کے نظام میں شمولیت اختیار کی۔آج آپ کی تعداد سیکڑوں، ہزاروں میں ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل بھی بہت زیادہ ہیں اور 100 سال بعد اور تقریباً اس تاریخ کو 100 سال بھی پورے ہو چکے ہیں اس لئے اس لحاظ سے آپ لوگوں کو جو کمانے والے لوگ ہیں جو اچھے حالات میں رہنے والے لوگ ہیں ان کو اس نظام میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور سب سے پہلے عہدیداران اپنا جائزہ لیں اور امیر صاحب بھی اس بات کا جائزہ لیں کہ 100 فیصد جماعتی عہد یداران اس نظام میں شامل ہوں ، چاہے وہ مرکزی عہدیداران ہوں یا مرکزی ذیلی تنظیموں کے عہدیداران ہوں یا مقامی جماعتوں کے عہد یداران ہوں یا مقامی ذیلی تنظیموں کے عہدیداران ہوں۔گو کہ اللہ کے فضل سے مجھے بتایا گیا کہ یہاں موصیان کی تعداد کافی اچھی ہے لیکن حضرت صوفی صاحب کے حالات پڑھ کر جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ