سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 136 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 136

136 سبیل الرشاد جلد چہارم سے پاک کرنا ہو گا، لین دین کے معاملے میں بھی ان کے ہاتھ بالکل صاف ہونے چاہئیں۔ہمسایوں کے حقوق کے بارے میں بھی ان کے ہاتھ بالکل صاف ہونے چاہئیں۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمسائے سے حسن سلوک کا خدا تعالیٰ کا حکم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس کی یہاں تک تاکید فرمائی ہے کہ صحابہ کو خیال ہوا کہ شاید یہ ہمارے ورثہ میں حصہ دار بننے والے ہیں " (خطبات مسر و رجلد 4 صفحہ 160-164 ) انصار اللہ وصیت کا چندہ ادا کرنے کے بعد ذیلی تنظیم کا چندہ بھی دیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 31 مارچ 2006ء کو فر مایا۔" جو چندے کے معاملے میں سستیاں دکھانے والے ہیں وہ اپنے جائزے لیں اور جو جماعتی عہد یدار نئے شامل ہونے والوں کو اس کی اہمیت سے آگاہ نہیں کرتے وہ بھی ذمہ دار ہیں۔پس جہاں دین کی نصرت کے لئے آسمان پر شور ہے وہاں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف بھی بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ان ذمہ داریوں کو بھی ہمیں نبھانا ہوگا۔اور ہم ہلاکت سے اس صورت میں بیچ سکتے ہیں جب أَحْسِنُوا پرعمل کرتے ہوئے اپنے فرائض عمدگی سے ادا کرنے والے ہوں اور اس کے نتیجہ میں خدا کی رضا حاصل کرنے والے ہوں۔۔۔۔پس یہ نمونے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کے نظارے ہمیں دکھاتے ہیں، وہاں اُن سست لوگوں کو بھی توجہ کرنی چاہئے ، ان کو بھی توجہ دلانے والے بننے چاہئیں جو حیلوں بہانوں سے چندوں میں کمی کی درخواستیں کرتے ہیں۔تو ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ مالدار ہونے کی طمع رکھتے ہیں ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح پیسہ اکٹھا ہو جائے۔یہ چند لوگ ان برکتوں میں نہ شامل ہو کر جو اس قربانی کی وجہ سے ملی ہے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے ہوتے ہیں۔اللہ سب احمدیوں کو عقل دے اور اس بخل سے محفوظ رکھے۔۔۔۔۔چندوں کے بارہ میں بعض جماعتوں کے بعض استفسار ہوتے ہیں جو بعض لوگوں کی طرف سے ہوتے ہیں جن کے بارے میں سمجھتا ہوں کہ وضاحت کر دوں۔ایک تو یہ کہ آج کل وصیت کی طرف بہت توجہ ہے۔اور وصیت کی طرف توجہ تو ہوگئی ہے لیکن تربیت کی کافی کمی ہے۔اس لئے بعض موصیان یہ سمجھتے ہیں کہ کیونکہ ہم نے وصیت کی ہوئی ہے اس لئے ہم صرف وصیت کا چندہ دیں گے باقی ذیلی تنظیموں کے چندے یا مختلف تحریکات کے چندے ہم پر لاگو نہیں ہوتے۔تو یہ واضح ہو، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اگر تو حالات ایسے ہوں کہ تمام چندے نہ دے سکتے ہوں تو اس کی اجازت لے لیں۔ورنہ توقع ایک موصی سے یہ کی