سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 119 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 119

سبیل الرشاد جلد چہارم 119 ست عہدیداران کو Active کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجلس عاملہ انصار اللہ بھارت کی میٹنگ مؤرخہ 7 جنوری 2006ء بروز ہفتہ بمقام ایوان انصار میں شمولیت فرمائی۔حضور نے قائدین سے ان کے شعبوں کا تعارف ، ان کے کام، آئندہ کے لائحہ عمل اور منصوبہ بندی کا جائزہ لینے کے بعد قائدین کو ہدایات سے نوازا اور راہنمائی فرمائی۔حضور انور نے قائد عمومی سے مجالس انصاراللہ کی تعداد کے بارہ میں دریافت فرمایا نیز دریافت فرمایا کہ کتنی مجالس با قاعده رپورٹس بھجواتی ہیں اور کتنی رپورٹس بھجوانے میں بے قاعدہ ہیں۔اور جو ر پورٹس نہیں بھجواتیں ان کے بارہ میں کیا طریق اختیار کیا گیا ہے۔فرمایا کہ مرکز کا کام ہے کہ ہر مجلس سے براہ راست رابطہ رکھے اور براہ راست یاددہانی کروائیں ، خط لکھیں یا فون وغیرہ کریں۔حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ جو عہدیدار اتنے سست ہیں ان کو بھی Active کیا جائے اور بار بار یاددہانی کروائی جائے۔فرمایا: ہر مجلس کی ماہانہ رپورٹ میں تمام شعبوں کی ماہانہ رپورٹ کا ذکر ہونا چاہئے۔نائب صدر صف دوم نے اپنی رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ نومبائعین کی دوصد مجالس قائم کی ہیں۔زیادہ تر صف دوم کے انصار ہیں۔جس پر حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کو نمازوں کے قیام اور قرآن کریم پڑھنے کی طرف توجہ دلائیں اور وصیت کے نظام کو متعارف کروائیں۔فرمایا: صف دوم کے انصار کے اس احساس کو ختم کرنے کے لئے کہ اب وہ بوڑھے ہو گئے ہیں ان کے اپنے پروگرام ہونے چاہئیں۔مثلاً سائیکلنگ ہو، صبح کی سیر ہو، کھیلوں وغیرہ کے پروگرام ہوں۔حضور نے فرمایا: بعض لوگوں کو ایک دو میل جانا ہوتا ہے لیکن بس کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں۔ایک دو میل پیدل چل کر نہیں جاتے۔حضور انور نے فرمایا کہ نیروبی ( کینیا) میں دیکھا ہے کہ وہاں لوگ پانچ چھ میل پیدل چل کر اپنے کام پر جاتے ہیں۔یہاں بھی یہ عادت ڈالنی چاہئے۔معاون صدر نے اپنے کام کے بارہ میں بتایا کہ صدر مجلس جو کام سپر د کرتے ہیں وہ کیا جاتا ہے نومبائعین کی رپورٹس کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ان سے خط و کتابت ہوتی ہے۔اس پر حضور انور نے فرمایا: تین سال سے زائد کو نو مبائع کہنا چھوڑ دیں۔پھر انہیں یہ احساس ہوگا کہ ہماری کوئی علیحدہ حیثیت نہیں ہے۔تین سال کا عرصہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ ان کی تربیت ہو جائے اور نظام کا پتہ چل جائے۔فرمایا: جو تین سال سے قبل کے ہیں اب ان کو با قاعدہ نظام کا حصہ بن جانا چاہئے۔یہ ہرگز مقصد نہیں تھا کہ وہ بالکل علیحدہ چیز بنا دیئے جائیں۔ان کا تشخص علیحدہ قائم کیا جائے۔حضور نے فرمایا : اب آپ کی ساری جماعتیں پرانی ہیں۔نو مبائع صرف وہ ہے جو گزشتہ تین سال میں شامل ہوا ہے۔فرمایا کہ اب یہ جائزہ لیں کہ کتنے ہیں جو نظام میں سموئے گئے اگر نہیں سموئے گئے تو ان کی ٹرینگ اور تربیت کا علیحدہ پروگرام بنا ئیں۔نئی مجالس کے زعماء،