سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 127 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 127

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 107 انہوں نے خدا کے مسیح کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کئے ہیں۔ الحمد للہ کہ میری آواز پر مسیح موعود کی پیاری جماعت نے لبیک کہتے ہوئے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کثرت سے احمدی نظام وصیت میں داخل ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ان مالی قربانیوں کو قبول فرماتے ہوئے اپنے قرب سے نوازے۔ اس موقع پر میں اپنے انصار بھائیوں اور خاص طور پر صف دوم کے انصار کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس طرف خاص توجہ دیں۔ وہ انصار جو اپنے دلوں میں ایمان اور اخلاص تو رکھتے ہیں مگر وصیت کے بارہ میں سستی دکھلا رہے ہیں میری ان کو یہ نصیحت ہے کہ وہ اشاعت اسلام کی خاطر اور اپنے نفوس میں نیک اور پاک تبدیلیوں کے لئے وصیت کی طرف جلدی بڑھیں کیونکہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ یہ جنت کے حصول کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ زندگی بہت مختصر ہے اور نہیں معلوم کہ کس وقت خدا تعالیٰ کی طرف بلاوا آجائے۔ بعض بڑے مخلصین بغیر وصیت کے نظام میں شامل ہوئے وفات پا جاتے ہیں اور پھر حسرت پیدا ہوتی ہے کہ کاش یہ بھی مخلصین کے ساتھ مقبرہ موصیان میں دفن کئے جاتے۔ ہماری جماعت میں سینکڑوں ایسے قربانی کرنے والے ہیں کہ وہ اپنے اموال کے دسویں حصہ سے زیادہ چندہ دیتے ہیں اور چندہ دیتے ہیں اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں مگر وصیت کرنے میں سستی کرتے ہیں ایسے دوستوں کو میرا و میرا یہ پیغام ہے کہ وہ ستیاں ترک کریں اور ا اور اس نظام میں شامل ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ وصیت کی شرائط کو اگر غور سے پڑھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ صرف ایک مالی قربانی کی ہی تحریک نہیں ہے بلکہ اپنے نفسوں کو پاک اور صاف کرنے کا ایک مسلسل جہاد ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ : ”تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی اور محرمات سے پر ہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو۔ سچا اور صاف مسلمان ہو“۔ پس اس لحاظ سے انصار کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں اپنی بیویوں اور اپنی اولادوں کو بھی دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے لئے تیار کریں۔ اپنے بچوں کی بچپن سے ہی دینی