سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 114 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 114

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 94 تمہارے بہترین سردار وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں تو صبر سے مراد یہ ہے کہ امیر کی بری بات دیکھ کے یہ نہیں کہ پورے نظام کے خلاف ہو جاؤ۔ نظام نظام سے سے وابستہ رہو اور اور وہ وہ بات آگے پہنچا دو اور اس کے بعد صبر کرو۔ جماعت سے تعلق نہیں ٹوٹنا چاہیے۔ اگر تمہارا جماعت سے تعلق ٹوٹتا ہے تو یہ جہالت کی موت ہے۔ تو جن لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم برداشت نہیں کر سکتے اس لئے ہم ایک طرف ہو گئے نمازوں اور جمعوں پر بھی بعض نے آنا چھوڑ دیا تو فرمایا کہ یہ ایسی حرکتیں ہیں، یہ جہالت کی حرکتیں ہیں۔ اکاد کا کوئی واقعات ہوتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے عموماً ایسا جماعت میں نہیں ہوتا۔ یہ جہالت کی حرکتیں جو ہیں ان سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔ تمہارا کام یہ ہے کہ صبر کرو اور دعا کرو۔ جیسا کہ میں نے شروع میں بھی کہا تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری یہ نیک نیتی سے کی گئی دعاؤں کو قبول میں کروں گا۔ پھر ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت عوف بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تمہارے بہترین سردار وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔ تم ان کے لئے دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے لئے دعا کرتے ہیں۔ تمہارے بد ترین سردار وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں۔ تم ان پر لعنت بھیجتے ہو اور وہ تم پر لعنت بھیجتے ہیں۔ راوی کہتا ہے کہ اس پر ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم ایسے سرداروں کو ان سے جنگ کر کے ہٹا کیوں نہ دیں۔ آپؐ نے فرمایا نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے ہیں اس وقت تک کوئی ایسی بات نہیں کرنی۔ (صحیح مسلم کتاب الامارة باب وجوب الانكار على الامراء فيما يخالف الشرع) یعنی دینی معاملات میں د میں دخل اندازی نہیں کرتے۔ تو آنحضرت نے یہ حکم واضح واضح طور پر دے دیا کہ اگر کوئی اس قسم کے بھی لوگ ہوں جو اتنا تنگ کر دیں کہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجنے لگ جاؤ تب بھی ان سے بغاوت نہیں کرنی۔ اللہ نہ کرے کہ کبھی جماعت کی یہ صورتحال ہو۔ لیکن یہ ایک انتہائی مثال ہے ایسی صور تحال ہو بھی جائے جیسا کہ بتایا گیا ہے تب بھی تم نے فرمانبرداری دکھانی ہے۔ دعا دعا کرتے کرتے رہیں ر اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل ۔ سے جماعت اور نظام جماعت کو ہمیشہ اپنی ا