سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 108 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 108

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 88 وغیرہ کے لئے آسمان کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ حضور علیہ السلام کے اس ارشاد کو سننے کے بعد حضرت معاویہؓ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا کہ لوگوں کی ضروریات اور مشکلات کا مداوا کیا کرے اور ان کی ضرورتیں پوری کرے۔ (ترمذی کتاب الاحكام باب في امام الرعية) عہدیداران ۔۔۔ خلیفہ وقت کے نمائندہ ہیں پس لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کریں، اپنے بھائیوں سے، بہنوں سے اس لئے پیار اور محبت کا سلوک کریں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے ، اس کا محبوب بننا ہے۔ اور یاد رکھیں امراء بھی، صدران بھی اور عہدیداران بھی اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداران بھی کہ وہ خلیفہ وقت کے مقرر کردہ انتظامی نظام کا ایک حصہ ہیں اور اس لحاظ سے خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں۔ اس لئے ان کی سوچ اپنے کاموں کو اپنے فرائض کو انجام دینے کے لئے اسی طرح چلنی چاہیے جس طرح خلیفہ وقت کی۔ اور انہیں ہدایات پر عمل ہونا چاہیے جو مرکزی طور پر دی جاتی ہیں۔ اگر اس طرح نہیں کرتے تو پھر اپنے عہدے کا حق ادا نہیں کر رہے۔ جو اس کے انصاف کے تقاضے ہیں وہ پورے نہیں کر رہے۔ پھر عہدے کی خواہش کرنا ہے پہلے بھی میں نے کہا کہ یہ ایک ایسی بات ہے جو جماعت میں بڑی معیوب سمجھی جاتی ہے اور ہر اس شخص کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جو اس بارے میں کوشش کرتا ہے۔ اس بارے میں ایک حدیث میں اس طرح آتا ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ اے عبد الرحمن ! تو امارت اور حکومت نہ مانگ۔ اگر تجھے بغیر مانگے یہ عہدہ ملے تو اس ذمہ داری کے بارے میں تیری مدد کی جائے گی۔ (یعنی خواہش نہ ہو اور پھر عہدہ مل جائے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرماتا ہے اور اپنے بندے کی مدد کرتا ہے۔) اور اگر تیرے مانگنے پر تجھے یہ عہدہ دیا گیا ہے تو تو پھر اللہ تعالی کی گرفت میں ہو گا۔ ( ذراسی بھی غلطی ہو گی تو پکڑ بہت زیادہ ہو گی۔) اور جب تو کسی ہو گی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے متعلق قسم کھائے اور پھر اس قسم سے برعکس تجھے بہتر بات نظر